ایران کے خلاف سعودی عرب کے پاس کیا آپشن ہیں؟
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران سے منسلک گروہوں کی سرگرمیوں نے سعودی عرب کو ایک نئی سیکیورٹی آزمائش سے دوچار کر دیا ہے
ریاض: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران سے منسلک گروہوں کی سرگرمیوں نے سعودی عرب کو ایک نئی سیکیورٹی آزمائش سے دوچار کر دیا ہے۔ یمن میں حوثیوں کے میزائل حملوں، عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کی کارروائیوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے بعد سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ سعودی عرب کے پاس اب کون سے عملی آپشن موجود ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کی پہلی ترجیح اپنے فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ مملکت پہلے ہی جدید میزائل دفاعی نظام اور فضائی نگرانی پر اربوں ڈالر خرچ کر چکی ہے، تاہم حالیہ حملوں نے مزید دفاعی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔
دوسرا اہم آپشن محدود فوجی کارروائیاں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی فضائیہ پہلے ہی اتحادی افواج کے ساتھ بعض اہداف پر کارروائیاں کر چکی ہے، جبکہ اگر حملوں میں اضافہ ہوا تو حوثیوں اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف مزید فضائی حملے کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سفارتی راستہ بھی مکمل طور پر ترک نہیں کرنا چاہتا۔ ریاض اب بھی علاقائی استحکام، اتحادی ممالک کے تعاون اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھتا ہے تاکہ وسیع جنگ سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ تیل کی برآمدات اور عالمی تجارتی راستوں کا تحفظ ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق سعودی عرب زمینی جنگ سے گریز کرتے ہوئے فضائی طاقت، جدید دفاعی نظام، اتحادی تعاون اور سفارتی دباؤ کے امتزاج پر مبنی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم اگر خطے میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو ریاض کو مزید سخت فیصلے بھی کرنا پڑ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ سعودی عرب دفاعی پالیسی تک محدود رہتا ہے یا خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مزید فعال فوجی کردار اختیار کرتا ہے۔