صحت کے خودمختارادارے تباہ کرنے کی سازش بے نقاب۔وزیراعظم کوٹرانسپرنسی کا خط
بڑے پیمانے پر انتظامی اور مالیاتی بے ضابطگیاں بے نقاب کردیں
فائل فوٹو
صحت کے خود مختاراداروں کو آزاد حیثیت سے محروم کرکے من پسند ہاتھوں میں دینے کی خفیہ کوششوں کا بھانڈا پھوٹ گیا۔اس مقصد کے لیے قوانین پر شب خون مارا جارہاہے،ٹرانسپرنسی نے بڑے پیمانے پر انتظامی اور مالیاتی بے ضابطگیاں بے نقاب کردیں،کچاچٹھا وزیراعظم کے سامنے رکھ دیا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی طرف سے وزیراعظم کو ارسال کیے گئے مکتوب میں دستاویزی شواہد کے ساتھ انکشاف کیا گیا ہے کہ صحت جیسے حساس شعبے میں من پسند افراد کو نوازنے کے لیے باقاعدہ قوانین کو تبدیل کیا جا رہا ہے، طبی آلات کی خریداری میں مروجہ پبلک پروکیورمنٹ رولز (PPRA) کی کھلی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ اس پورے کھیل میں سب سے تشویشناک پہلوقانونی ترامیم کے ذریعے بڑے طبی اداروں کی خود مختاری پر کاری ضرب لگانا ہے، اور اسے میڈیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جا رہا ہے۔
‘’’امت‘‘ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، وزارتِ صحت کے زیرِ اثر مروجہ قوانین اور بائی لاز (By-laws) میں ایسی خفیہ ترامیم متعارف کرائی جا رہی ہیں جن کا مقصد ہیلتھ سروسز اکیڈمی (HSA) اور اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی (IHRA) جیسے کلیدی اور تکنیکی اداروں کی آزادانہ حیثیت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ ان ترامیم کے بعد ان اداروں کا کنٹرول بیوروکریسی اور من پسند افراد کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور ان کی ریگولیٹری ساکھ تباہ ہو کر رہ جائے گی۔
ذرائع کے مطابق، وزارتِ صحت ان تمام طبی محکموں میں وہی فارمولا دہرانے جا رہی ہے جو حال ہی میں پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل (PNMC) میں آزمایا گیا۔ نرسنگ کونسل میں بھی پہلے صدارتی آرڈیننس اور پھر مئی 2026 میں پارلیمنٹ سے ایکٹ پاس کرا کر ادارے کے جمہوری طرزِ انتظام اور خود مختاری کو بیک جنبشِ قلم ختم کر دیا گیا تھا اور اسے وزارت کا ایک سیاسی ونگ بنا کر من پسند بیوروکریٹس کو مسلط کیا گیا۔ اب اسی طرز پر HSA اور IHRA کے بائی لاز کو موم کی ناک بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کو ارسال خط میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کا خاص طور پرتذکرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک مخصوص افسر کو نوازنے کے لیے قواعد و ضوابط کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ مروجہ رولز کو بائی پاس کر کے مذکورہ من پسند افسر کو پروکیورمنٹ (سرکاری خریداری) اور فنڈز مینجمنٹ کا اضافی چارج سونپا گیا، جو کہ مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) اور انتظامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وفاقی دارالحکومت کے دو بڑے ہسپتالوں، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) اور فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک (FGPC) میں طبی آلات اور ادویات کی خریداری کے عمل پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خط کے مطابق، ان ہسپتالوں کے لیے پروکیورمنٹ میں پیپرا (PPRA) رولز کے شفافیت کے معیار کو برقرار نہیں رکھا گیا، جس سے پبلک فنڈز کے غیر شفاف استعمال کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔