اسلام آباد میں امام خمینی کی برسی کی تقریب،پاکستانی سیاسی و مذہبی شخصیات کی شرکت
امام خمینی کے افکار آج بھی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔مشاہد حسین و دیگر مقررین کا خطاب
ایران کے بانی انقلاب امام خمینی کی 37ویں برسی کے موقع پر اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی شخصیات، دانشوروں، اساتذہ اور صحافیوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے امام خمینی کی سیاسی و مذہبی خدمات، اسلامی انقلاب کے اثرات اور خطے میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی۔ شرکاء نے ایران کی ترقی اور استقامت کو امام خمینی کی قیادت اور نظریات کا نتیجہ قرار دیا۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے خطاب میں ذی الحجہ کے مہینے اور امام خمینی کی برسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور دنیا کے مختلف خطوں میں موجود افراد آج بھی امام خمینی کے افکار اور نظریات سے رہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔
تقریب سے سید ساجد علی نقوی، آصف علی خان درانی، کامران مرتضیٰ، سحر کامران، لیاقت بلوچ، سید جواد نقوی اور مشاہد حسین سید نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے امام خمینی کے افکار، اسلامی انقلاب کے اثرات، مظلوم اقوام کی حمایت اور عالمی سطح پر انصاف و آزادی سے متعلق موضوعات پر گفتگو کی۔ بعض مقررین نے ایران کی حالیہ پیش رفت اور مشکلات کے مقابلے میں اس کی مزاحمت کو بھی سراہا۔
سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ امام خمینی کے افکار آج بھی ان افراد کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں جو ظلم اور تسلط کے خلاف جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ سحر کامران نے کہا کہ ایران کو درپیش چیلنجز کے باوجود ایرانی قوم نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ امام خمینی کے نظریات کسی ایک ملک یا معاشرے تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کی آزادی پسند اقوام کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ مشاہد حسین سید نے ایران کی استقامت کو امام خمینی کے نظریات اور ایرانی قیادت کے تسلسل سے جوڑا۔
تقریب کے اختتام پر امام خمینی اور مختلف شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جبکہ شرکاء نے خطے میں امن، استحکام اور مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔