منظوروسان کا کراچی پولیس کے سابق چیف کو 50کروڑہرجانے کانوٹس۔ تنازع کیاہے؟
14 دن میں غیر مشروط معافی کامطالبہ۔بصورت دیگر قانونی کارروائی کی دھمکی
فائل فوٹو
سابق وزیر داخلہ سندھ منظور حسین وسان نے کراچی پولیس کے سابق چیف غلام شبیر شیخ کو 50 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس جاری کر دیا ۔نوٹس میں غلام شبیر شیخ پر سنگین الزامات لگانے، پیکا ایکٹ سمیت قانونی کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔ وسان کے وکیل بیرسٹر مصطفیٰ مہیسر کی جانب سے بھیجا گیا یہ نوٹس 14 دن میں غیر مشروط معافی اور ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، ورنہ عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
معاملہ ایک پوڈکاسٹ انٹرویو سے شروع ہوا جس میں سابق ایڈیشنل آئی جی غلام شبیر شیخ نے الزام لگایا کہ جب منظور وسان سندھ کے وزیر داخلہ تھے تو انہوں نے انہیں اپنی رہائش گاہ پر بلایا اور کراچی کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز اپنی مرضی کے تعینات کرنے کا مطالبہ کیا۔ شیخ کے بقول آٹھ دن بعد وسان نے آدھے تھانوں پر سمجھوتہ کر لیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مطالبہ رشوت اور کک بیکس کے ذریعے دولت بٹورنے کے لیے کیا گیا تھا۔
شیخ شبیر نے مزید الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ دو پولیس افسران نوٹوں سے بھرے تھیلے لے کر وسان کی رہائش گاہ پر آئے، ان کی جاسوسی کے لیے خفیہ اہلکار لگائے گئے اور وسان اپنے گھر کی خواب گاہ میں میٹنگز کیا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسے شخص کو نائب تحصیلدار ہونا چاہیے۔
وسان کے وکیل نے ان تمام الزامات کو من گھڑت، جھوٹے اور افسانوی قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے۔ نوٹس میں انہیں گہری مجرمانہ سازش قرار دیا گیا ہے۔ وکیل نے لکھا ہے کہ ان کے موکل سیاست کے درخشندہ ستارے اور بے داغ کردار کے مالک ہیں جن کی اور ان کے خاندان کی نصف صدی سے زائد عرصے میں بے لوث عوامی خدمات کا ریکارڈ موجود ہے۔