سولر پر منتقل ہونے والے صنعتکاروں کو سخت سزا دینے کیلئے پالیسی تیار
دو حصوں پر مشتمل صنعتی ٹیرف پالیسی" کے تحت بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز کا حصہ بڑھایا جائے گا
حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نئے ٹیرف ماڈل پر کام شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد قومی گرڈ کے استعمال میں اضافہ اور آف گرڈ توانائی ذرائع، خصوصاً سولر سسٹمز، کی جانب منتقلی کے رجحان کو کم کرنا ہے۔ صنعت کار اس نئے ماڈل کا خصوصی ہدف ہیں جنہیں سولر پر منتقل ہونے کی سزا دی جائے گی۔
انگریزی معاصر کے مطابق مجوزہ “دو حصوں پر مشتمل صنعتی ٹیرف پالیسی” کے تحت بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز کا حصہ بڑھایا جائے گا، جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی صارفین کو فی یونٹ نرخ میں رعایت دی جا سکتی ہے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ بہت سے صنعتی صارفین بڑے کنکشن اور منظور شدہ لوڈ برقرار رکھتے ہیں لیکن قومی گرڈ سے کم بجلی لیتے ہیں، جس کے باوجود بجلی کے نظام کو ان کے لیے مکمل استعداد برقرار رکھنا پڑتی ہے۔
مجوزہ پالیسی کے تحت کم استعمال کرنے والے صارفین پر زیادہ فکسڈ چارجز لاگو ہو سکتے ہیں، جبکہ زیادہ استعمال کرنے والی صنعتوں کو نسبتاً سستی بجلی فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی ہے۔ ابتدائی طور پر اس کا اطلاق صنعتی صارفین پر ہوگا، جبکہ بعد میں اسے دیگر شعبوں تک توسیع دی جا سکتی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق پالیسی کا مقصد صنعتی پیداوار میں اضافہ، قومی گرڈ کے بہتر استعمال اور بجلی کے شعبے پر مالی دباؤ میں کمی لانا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے اور حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔