کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کا تدریسی عمل اور امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان
مطالبات پورے کیے بغیر امتحانات اور تدریسی عمل کا مکمل بائیکاٹ جاری رہے گا،مشترکہ اعلامیہ
فائل فوٹو
کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ نے جامعہ کراچی کے اساتذہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تدریسی عمل اور امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔
جمعرات کو انجمن اساتذہ وفاقی اردو یونیورسٹی عبدالحق اور گلشن اقبال کیمپس کے مشترکہ اجلاس میں مطالبات کی تکمیل تک بائیکاٹ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مشترکہ اجلاس عبدالقدیر خان آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جہاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کے دور کو ناکام ترین قرار دیتے ہوئے چانسلر اور صدر پاکستان آصف علی زرداری سے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے اور احتساب کے مطالبات کیے گئے۔
اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی کہ اساتذہ و ملازمین کی ہاؤس سیلنگ ادا کی جائے، 20 فیصد کٹوتی واپس لی جائے، تنخواہوں اور پینشن کے بقایاجات ادا کیے جائیں، اور 2022 میں جاری آسامیوں کے اشتہار کے مطابق سلیکشن بورڈ فوری منعقد کروایا جائے۔
مطالبات میں جبری طور پر برطرف کیے گئے اساتذہ و ملازمین کی بحالی، جلد ریٹائر ہونے والے اساتذہ کو ہارڈ شپ کے مطابق ترقی، جز وقتی اساتذہ کے معاوضے، شعبہ جات میں میرٹ کی بنیاد پر داخلے، ارنڈ لیوز کی واپسی، اور میڈیکل پینلز کی فوری بحالی شامل ہیں۔
مشترکہ اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ مطالبات پورے کیے بغیر امتحانات اور تدریسی عمل کا مکمل بائیکاٹ جاری رہے گا۔