آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے وقت ان کے دفتر میں موجود تھا، محفوظ رہا، عباس عراقچی
عمارت کا وہ حصہ جہاں وہ بیٹھے تھے براہِ راست حملوں میں محفوظ رہا تھا، انٹرویو
فائل فوٹو
تہران: ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے وقت ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے۔
حزب اللہ سے وابستہ عرب نشریاتی ادارے المیادین کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ وہ فروری میں جنیوا مذاکرات سے واپسی کے بعد 28 فروری کی صبح 9 بجے آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر پہنچے تھے تاکہ انہیں مذاکرات اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر بریفنگ دے سکیں۔
عراقچی کے مطابق اس ملاقات میں جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث جنگ کے امکانات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جب امریکا اور اسرائیل نے حملہ کیا تو اس وقت وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر میں موجود ہی تھے، تاہم عمارت کا وہ حصہ جہاں وہ بیٹھے تھے براہِ راست حملوں میں محفوظ رہا تھا۔
Iranian FM Araghchi reveals he survived strikes that killed Ali Khamenei
'I WAS EMERGING FROM THE RUBBLE'
'At the moment of his martyrdom, I was in the office that was attacked'
IDF footage: '50 Israeli jets bomb Khamenei's compound' pic.twitter.com/9CAxK0t5mW
— RT (@RT_com) June 4, 2026
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق حملے کے وقت انہیں اپنی جان کے مقابلے میں سپریم لیڈر کی سلامتی کی زیادہ فکر تھی۔ اس حملے کے پہلے اور دوسرے روز وہ شدید بے چینی کا شکار رہے، یہاں تک کہ ان کی شہادت کی خبر کی تصدیق ہو گئی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان دنوں جنگ کا خطرہ سر پر منڈلا لارہا تھا لیکن سپریم لیڈر پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کو پسند نہیں کرتے تھے۔