جرائم پیشہ نیٹ ورکس مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں:محسن نقوی

دہشت گردی، منظم جرائم اور سرحدی چیلنجز سے نمٹنے پر زور

June 5, 2026 · قومی

فائل فوٹو

 

 وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے۔

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے داخلہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ سرحدوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں ، بارڈر سکیورٹی کے حوالے سے ایس سی او کا پلیٹ فارم انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے اجتماعی کاوشیں کرنا ہوں گی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان ہر ملک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بارڈر سکیورٹی سرحدی جرائم کی روک تھام کے لیے نہایت اہم ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ خطے کو سنگین اور پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور دہشت گردی، منظم جرائم، منشیات کی سمگلنگ، سائبر کرائم اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے اداروں کے درمیان جدید خطوط پر ہم آہنگی ضروری ہے۔ پاکستان شنگھائی سپرٹ کے اصولوں، باہمی اعتماد، مساوی شراکت اور خودمختاری پر مکمل کاربند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں ۔قومی ایکشن پلان کے تحت انٹیلیجنس کوآرڈینیشن، بارڈر مینجمنٹ اور اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ایس سی او آر اے ٹی ایس کے تحت انٹیلیجنس شیئرنگ اور مشترکہ خطرات کے تجزیے میں تعاون کے ساتھ آن لائن انتہاپسندی کے تدارک کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس ضمن میں ورکشاپس اور ماہرین کے تبادلے کے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ سائبر انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل فرانزکس میں علاقائی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق منشیات کی سمگلنگ دہشت گردی کی مالی معاونت کا بڑا ذریعہ ہے، اس لیے منشیات، آن لائن نیٹ ورکس اور کرپٹو ٹرانزیکشنز کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس ایس سی او سطح پر انسدادِ منشیات اقدامات میں مکمل طور پر متحرک ہے ۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا پاکستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ نظام میں اصلاحات کی ہیں اور ملک کا مضبوط اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گرد مالی نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے مضبوط علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجز مشترکہ ہیں، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے کوششیں بھی اجتماعی اور مربوط ہونی چاہئیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ پُرامن اور محفوظ ایس سی او خطہ مشترکہ کوششوں کا ہدف ہے اور پاکستان 2027 میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایس سی او سمٹ میں شرکاء کے استقبال کا منتظر ہے۔