امریکہ اور ایران جوہری فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ، سربراہ جوہری نگراں ادارے

پرامن مقاصد کے لیے قائم کی گئی جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے ،بورڈ آف گورنرز کے ہنگامی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ویانا: اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے (IAEA) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکہ ایک جوہری فریم ورک پر اتفاق کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کو اپنے بقایا اور حل طلب معاملات پر تفصیلی بات چیت کے لیے مناسب وقت فراہم کرنا ہے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ویانا میں بورڈ آف گورنرز کے ہنگامی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ان کی تنظیم براہِ راست ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہے، تاہم وہ دونوں فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا اندازہ یہ ہے کہ دونوں ممالک جوہری فریم ورک اور تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے کسی حتمی معاہدے پر پہنچنے کے بہت قریب ہیں، تاکہ انہیں مختلف پیچیدہ مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے مزید وقت مل سکے۔

یہ ہنگامی اجلاس مصر، اردن، مراکش اور سعودی عرب کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔ یہ سفارتی متحرک ہونا گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات (UAE) کے ‘براکہ جوہری توانائی پلانٹ’ پر ایرانی حملے کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔

رافیل گروسی نے اماراتی جوہری تنصیب پر ہونے والے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرامن مقاصد کے لیے قائم کی گئی جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے کیونکہ اس سے خطے کی سیکیورٹی اور عوام کی حفاظت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔