سفید فام امریکی کے بچوں کو پاکستان شہریت دینے کیلئے کوششیں

پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ کے سیکشن 4 کے تحت پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت کا حق حاصل ہے

June 8, 2026 · قومی

لاہور: پاکستان منتقل ہو کر یہاں مستقل رہائش اختیار کرنے والے ایک امریکی خاندان نے اپنے لاہور میں پیدا ہونے والے دو بچوں کو پاکستانی شہریت نہ ملنے پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

درخواست کے مطابق امریکی شہری ایلکس میسن ہل، جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد عبدالقادر ثانی جیلانی نام اختیار کیا، 2021 میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ ان کے چار بچوں میں سے دو، عاشق احمد جیلانی اور علی نور جیلانی، لاہور میں پیدا ہوئے۔

خاندان کا مؤقف ہے کہ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ کے سیکشن 4 کے تحت پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت کا حق حاصل ہے، اسی بنیاد پر مئی 2025 میں متعلقہ حکام کو درخواستیں جمع کرائی گئیں، تاہم ایک سال گزرنے کے باوجود کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ بارہا رابطوں اور قانونی نوٹسز کے باوجود معاملہ مختلف سرکاری اداروں کے درمیان منتقل ہوتا رہا، جس کے باعث غیر معمولی تاخیر پیدا ہوئی۔

ریکارڈ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے 6 اکتوبر 2025 کو پنجاب کے محکمہ داخلہ کو چھ ہفتوں کے اندر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی، تاہم درخواست گزار کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

اسی بنیاد پر بچوں کے والد نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی استدعا کی ہے۔

حالیہ سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے سیکرٹری داخلہ پنجاب، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل عمر اعجاز گیلانی کا کہنا ہے کہ ایک امریکی خاندان کا پاکستان آ کر مستقل رہائش اختیار کرنا اور اپنے بچوں کے لیے پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی کوشش ملک کے مثبت تشخص کی عکاسی کرتی ہے، تاہم بیوروکریٹک تاخیر اس عمل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔