کوئٹہ میں شہری کے ہاتھوں ڈیڑھ سالہ بچی سمیت پوراگھر قتل۔وجوہات سامنے آگئیں

واقعے سے قبل تقریباً 13 منٹ کی ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی۔ تحقیقات شروع

June 9, 2026 · امت خاص

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک سرکاری ملازم کی جانب سے اپنی اہلیہ اور چار کمسن بچوں کو قتل کرنے اور بعد ازاں خودکشی کرنے کے دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد اس سانحے کے محرکات اور پس پردہ عوامل سامنے آئے ہیں۔ واقعے میں مجموعی طور پر چھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔

پولیس کے مطابق واقعہ پیر کی سہ پہر وحدت کالونی میں پیش آیا جہاں سول سیکریٹریٹ کے ملازم محمد آصف ولد موسیٰ خان گورگیج نے مبینہ طور پر پہلے اپنی اہلیہ زینب اور چار بچوں کو قتل کیا اور پھر خود اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

جاں بحق ہونے والے بچوں میں 13 سالہ حذیفہ، 12 سالہ حورین، 6سالہ علینہ اور ڈیڑھ سالہ مہرنا شامل ہیں۔

پولیس اور اہل خانہ کے مطابق محمد آصف نے واقعے سے قبل تقریباً 13 منٹ کی ایک ویڈیو ریکارڈ کی تھی جسے انہوں نے اپنے بعض رشتہ داروں، سوشل میڈیا کارکنوں اور دیگر افراد کو بھیجا۔ ویڈیو میں انہوں نے دو سرکاری ملازمین پر الزام عائد کیا کہ وہ انہیں سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے لیے مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے تھے اور مختلف طریقوں سے ہراساں کر رہے تھے۔
ویڈیو پیغام میں محمد آصف نے دعویٰ کیا کہ ان کے پانی کے کنکشن منقطع کیے گئے ۔ بجلی کا کنکشن بھی کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ بعض افراد ان کے بچوں کا حوالہ دے کر انہیں دھمکیاں دے رہے تھے۔اس حوالے سے آصف نے آفتاب جبل کا نام لیا۔

انہوں نے صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے مدد کی اپیل بھی کی تھی۔

ویڈیو میں محمد آصف نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو بہت محبت سے پالا ہے اور وہ انہیں کسی ممکنہ نقصان سے پہلے خود ہی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیں گے۔

محمد آصف کے بھتیجے حاتم خان کے مطابق ان کے چچا نے واقعے سے کچھ دیر قبل واٹس ایپ پر ویڈیو اور وائس پیغامات بھیجے اور فون پر بتایا کہ وہ انتہائی قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔ حاتم خان کے مطابق انہوں نے اپنے چچا کو ایسا نہ کرنے کی تلقین کی اور فوری طور پر ان کے گھر پہنچنے کی کوشش کی۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ اپنے والد کے ساتھ گھر پہنچے تو دروازہ نہیں کھولا گیا۔ کچھ دیر بعد محمد آصف نے مبینہ طور پر اپنی دو مقتول بچیوں کی تصاویر بھیجیں، جس پر اہل خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ بعد ازاں گھر کے اندر سے گولی چلنے کی آواز سنائی دی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔

پولیس نے موقع پر پہنچ کر دروازہ توڑا اور گھر سے محمد آصف، ان کی اہلیہ اور چار بچوں کی لاشیں برآمد کر لیں۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو کے بعد اس واقعے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ محمد آصف طویل عرصے سے سرکاری رہائش گاہ کے تنازعے اور مبینہ دباؤ کا شکار تھے، بعض مقامی افراد نے انہیں نفسیاتی مسائل میں مبتلا قرار دیا ہے۔

محمد آصف کے ایک ہمسائےنے دعویٰ کیا کہ وہ لوگوں سے کم میل جول رکھتے تھے اور ذہنی دباؤ کا شکار دکھائی دیتے تھے۔ ان کے مطابق ماضی میں گھریلو تشدد کا ایک واقعہ بھی پیش آیا تھا، تاہم پولیس نے تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔

ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے میڈیا شاہد رند نے بتایا کہ ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کے تناظر میں دو مشتبہ سرکاری ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

شاہد رند کے مطابق وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے کر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی فرد یا سرکاری اہلکار کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کے اصل محرکات اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے گا۔