اسرائیلی وزیرِ خزانہ کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد

آبادکار تنظیموں کے 4 سربراہان اور 21 پرتشدد آبادکاروں کے فرانس میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

June 9, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پیرس: فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اُن کے ملک نے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر مغربی کنارے میں تشدد کے باعث اسرائیل کے وزیرِ خزانہ پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

ژاں نویل بارو نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ آج اُن افراد کے خلاف پابندیاں لگائی گئی ہیں جو مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری اور پرتشدد واقعات کے لیے ذمے دار ہیں۔

بارو کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ، آبادکار تنظیموں کے 4 سربراہان اور 21 پرتشدد آبادکاروں کے فرانس میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ خزانہ مغربی کنارے کے انضمام کی فعال حمایت کرتے ہیں اور کھل کر اس کا دفاع کرتے ہیں۔ ’وہ مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے قیام، غزہ میں بستیوں کے دوباری قیام، اور فلسطینی اتھارٹی کو معاشی طور پر کمزور کرنے اور اس کے انہدام کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ً

ان کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں عالمی برادری کی بھاری اکثریت کے لیے ناقابلِ قبول ہیں جو اب بھی دو ریاستی حل کے لیے پُرعزم ہے۔

انتہائی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے سموٹریچ حالیہ مہینوں میں فرانس میں داخلے پر پابندی کا سامنا کرنے والے دوسرے اسرائیلی وزیر ہیں۔

گذشتہ ماہ فرانس نے اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔