بھارت نے مغربی بنگال کے مہاجرین پر قیامت ڈھا دی
خواتین اور بچوں سمیت بعض افراد کو خوراک اور بنیادی سہولیات کے بغیر سرحدی علاقوں میں رکھا گیا۔
بنگلادیش سرحد پربھارت کی مودی سرکار ظلم و جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے، جہاں مغربی بنگال کے مہاجرین پر قیامت ڈھا دی ۔ڈھاکہ اور سرحدی علاقوں سے متعلق حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی صورتحال میں تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، بشمول الجزیرہ سے منسوب اطلاعات کے مطابق، بعض بنگلہ دیشی شہریوں کے ساتھ سرحد پر انسانی سلوک سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ ان رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خواتین اور بچوں سمیت بعض افراد کو خوراک اور بنیادی سہولیات کے بغیر سرحدی علاقوں میں رکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی سرحدی فورسز کی جانب سے بعض افراد کو سرحد پار واپس بھیجے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں کچھ افراد کے قانونی دستاویزات ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرحدی باڑ اور نگرانی کے نظام میں اضافے سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جنہیں بعض حلقے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ سرحدی معاہدوں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
بھارتی حکام کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تفصیلی اور باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ بنگلہ دیشی حکام کی جانب سے بھی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق سرحدی کشیدگی میں اضافہ خطے کے امن اور دو طرفہ تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اس لیے تمام فریقین سے تحمل اور سفارتی ذرائع کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں اس کے لیے سرخیاں یا ہیش ٹیگز بھی بنا سکتا ہوں۔