افغانستان پر پاک فوج کے حملوں میں 4 دہشت گرد ٹھکانے تباہ،26 خوارج ہلاک

کم از کم 13 افراد جان سے گئے اور دیگر 14 زخمی ہوئے۔ طالبان ترجمان

June 10, 2026 · بام دنیا

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نےکہا ہے کہ ملک میں حالیہ ’دہشت گرد‘ حملوں کے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو ’درستی‘ کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
وزیر اطلاعات نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ملک میں 9 جون 2026 کو موسیٰ درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری پوسٹ، 2 جون 2026 کو شمالی وزیرستان میں ملٹری پوسٹ پر گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ اور 9 مئی 2026 کو بنوں میں پولیس سٹیشن پر حملوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں ’فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف نہایت درست اور محتاط کارروائیاں کیں، جن میں 26 انڈین سرپرستی یافتہ خوارج مارے گئے۔‘

عطا تارڑ نے کہا کہ معتبر خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ان کے کیمپس اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ چار اہداف مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے جن میں ایک تربیتی مرکز، ایک خفیہ ٹھکانہ، اسلحے کا ذخیرہ اور ‘فتنہ الخوارج’ کے کمانڈر علیم خان خوشحالی اور کمانڈر اختر محمد جانی خیل کے مراکز شامل تھے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، تاہم ہمارے شہریوں کی حفاظت اور سکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں پوری شدت سے جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

اس سے قبل افغانستان نےالزام عائد کیا کہ پاکستان نےنئے فضائی حملوں میں کم از کم 13 افراد جان سے گئے اور دیگر 14 زخمی ہوئے۔افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک اور ایکس پر لکھا ہے کہ گذشتہ رات پاکستانی فوج نے کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں میں بمباری کی۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں بھی تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جس کی سرحد خوست سے ملتی ہے۔ برمل ضلع کے ایک رہائشی نے بتایا کہ فضائی حملہ صبح ایک بجے کے قریب ہوا۔