ڈاکٹر ماہ نور پرحملہ ملزم کا ذاتی فعل تھا یا ہینڈلر کوئی اور؟بحث چھڑگئی

ملزم نےرشتہ بھجوایاتھا۔ڈاکٹر ماہ نور کیس میں نیاموڑلیکن اہل خانہ محرکات سے لاعلم

June 10, 2026 · امت خاص

ڈاکٹر ماہ نور ناصر کیس کے محرکات اب تک نامعلوم ہیں۔سوشل میڈیاپر بحث چھڑگئی کہ کیا تیزاب سے حملہ ملزم کا انفرادی فعل تھا یاپھراس کے پیچھے کوئی اور تھا۔واردات کرنے کے بعد فرار ہونے پر پولیس کا فوری انتہائی اقدام اس امکان کی طرف بھی اشارہ کرتاہے کہ ممکنہ طورپر اصل مجرم یا ہینڈلر کوئی طاقت ور شخص تھا ۔اب تک متاثرہ ڈاکٹر کا بیان حاصل نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے معاملہ پوری طرح واضح نہیں۔کسی خاتون کے ذریعے رشتہ بھجوانے کا پہلو بھی سامنے آیا ہے ۔ لیکن،ڈاکٹر ماہ نور کے بھائی فرحت ناصر کا کہنا ہے کہ خاندان کو اب تک اس واقعہ کے محرکات کا علم نہیں۔

ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے اردونیوزکو ایک انٹرویو میں بتایا کہ تیزاب حملہ کیس کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ملزم نے تیزاب کہاں سے خریدا اور کس نوعیت کا تیزاب استعمال کیا گیا۔ یہ تیزاب کہاں کہاں دستیاب تھا۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعہ مبینہ طور پر یکطرفہ دلچسپی کا نتیجہ تھا اور مسترد کیے جانے پر ملزم نے انتہائی قدم اٹھایا۔

ڈی آئی جی کا کہناہے کہ موبائل فون کے فرانزک سے شواہد حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے تاہم اب تک پیغامات میں واضح ثبوت نہیں ملے امکان ہے کہ مواد حذف کیا گیا ہو جسے ریکور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پولیس ذرائع نے خبررساں ادارے کومزید بتایا کہ ملزم نے واقعے سے قبل ایک خاتون کے ذریعے ڈاکٹر ماہ نور کو رشتے کا پیغام بھجوایا تھا جسے مسترد کر دیا گیا تھا جس کا اسے رنج تھا جو تیزاب حملے کی وجہ بنا۔سوشل میڈیاپر اس بارے میں بھی پوچھاجارہاہے کہ وہ خاتون کون تھی جس کے ذریعے مبینہ طورپر ملزم نے ڈاکٹر ماہ نور کا رشتہ بھجوایا ،اور ان کے بھائی نے اس بات سے لاعلمی کیوں ظاہر کی ۔

پولیس کے مطابق حملہ آور ہمایوں شاہ نوشکی کا رہائشی تھا۔مبینہ مقابلے میں موت کے بعد اس کے خلاف تیزاب حملے، اسلحہ رکھنے اور پولیس پر فائرنگ کے تین مقدمات درج کیے گئے۔پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزم کے رشتہ داروں نے بتایا کہ ہمایوں شاہ کو کچھ عرصہ قبل وراثت میں ایک کروڑ روپے سے زائد رقم ملی تھی اور وہ کوئٹہ میں علیحدہ رہائش اختیار کر چکا تھا۔واقعے سے چند روز قبل ہی اس نے اپنی رہائش سے سامان منتقل کر دیا تھا جس کے باعث شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ حملے کی پیشگی منصوبہ بندی کرچکا تھا۔ تاہم ڈی آئی جی عمران شوکت کا کہنا ہے کہ ملزم کے خاندان نے بتایا ہے کہ انہیں ہمایوں کے ارادوں کا علم نہیں تھا۔

ولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اس سلسلے میں متعلقہ لوگوں کے بیانات ریکارڈ کئے جارہے ہیں۔خاتون ڈاکٹر کے صحت یاب ہونے کے بعد ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے گا۔