مالی سال 27-2026 کا بجٹ تخمینہ جاری : 42.9 فیصد رقم سود کی ادائیگیوں کی نذر ہونے کا انکشاف
صرف سود اور دفاعی اخراجات مل کر کل بجٹ کا تقریباً 59 فیصد بنتے ہیں، ماہرین معیشت
فائل فوٹو
اسلام آباد : حکومت پاکستان نے مالی سال 27-2026 کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے حجم کے نئے بجٹ کے تخمینے جاری کر دیے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق روایت کے برعکس اس سال بھی ملکی معیشت پر سود کی ادائیگیوں کا بھاری بوجھ برقرار رہے گا، جو کل بجٹ کا سب سے بڑا حصہ نگل جائے گا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ صرف سود اور دفاعی اخراجات مل کر کل بجٹ کا تقریباً 59 فیصد بنتے ہیں، جس کے باعث ملک میں ترقیاتی کاموں کے لیے حکومت کو شدید طور پر قرضوں اور دیگر بیرونی ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
آمدنی اور وسائل کے تخمینے
حکومت نے کل 18,771 ارب روپے کے وسائل حاصل کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے درج ذیل اہداف مقرر کیے ہیں:
| آمدنی کا ذریعہ | متوقع رقم (ارب روپے میں) | کل وسائل کا حصہ (%) |
| خالص آمدنی (ٹیکس و دیگر ذرائع) | 11,751 | 62.6% |
| بینکوں سے قرضے (ٹی بلز، پی آئی بیز، سوکاک) | 4,012 | 21.4% |
| غیر بینکنگ ذرائع (نیشنل سیونگز وغیرہ) | 2,034 | 10.8% |
| خارجہ وصولیاں (بیرونی ذرائع) | 813 | 4.3% |
| نجکاری سے حاصل آمدنی | 161 | 0.9% |
بجٹ اخراجات کی تفصیلات
مجموعی اخراجات کا حجم بھی 18,771 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں سب سے زیادہ رقم سود کی ادائیگیوں کی نذر ہوگی۔
سود کی ادائیگی : بجٹ کا سب سے بڑا حصہ یعنی 8,054 ارب روپے (42.9 فیصد) صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی میں جائے گا۔
دفاعی امور اور خدمات : ملکی دفاع کے لیے 3,000 ارب روپے (16 فیصد) مختص کیے گئے ہیں۔
امدادی گرانٹس اور ٹرانسفرز: اس مد میں 2,680 ارب روپے (14.3 فیصد) خرچ ہوں گے۔
پنشن : سرکاری ملازمین کی پنشن کے لیے 1,169 ارب روپے (6.2 فیصد) رکھے گئے ہیں۔
سبسڈیز : مختلف شعبوں کو دی جانے والی رعایت کے لیے 1,091 ارب روپے (5.8 فیصد) مختص ہیں۔
سول حکومت کے اخراجات: وفاقی حکومت کو چلانے کے روزمرہ اخراجات کا تخمینہ 1,071 ارب روپے (5.7 فیصد) ہے۔
وفاقی ترقیاتی پروگرام (Federal PSDP): ملک میں ترقیاتی کاموں کے لیے صرف 1,000 ارب روپے (5.3 فیصد) کا فنڈ قائم کیا گیا ہے۔
ہنگامی حالات اور دیگر اخراجات: ناگہانی آفات کے لیے 430 ارب روپے (2.3 فیصد) رکھے گئے ہیں۔
نیٹ ادھار (Net Lending): اس مد میں 276 ارب روپے (1.5 فیصد) کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ کا نچوڑ: نئے مالی سال کے بجٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کی خالص آمدنی (11,751 ارب) کے مقابلے میں صرف سود اور دفاع کے اخراجات ہی 11,054 ارب روپے بنتے ہیں، جس کے باعث باقی تمام ملکی نظام اور ترقیاتی منصوبوں کو چلانے کے لیے حکومت کو بینکوں اور بیرونی اداروں سے مزید قرضے لینے پڑیں گے۔