بجٹ میں عوام کو اضافی ریلیف دیا:محمد اورنگزیب

50 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کرتے ہوئے اسے 8 فیصد تک محدود کر دیا گیا ہے

June 13, 2026 · اہم خبریں

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے بعد ترقی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور نئے مالی سال کے بجٹ میں کئی اہم اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں برآمدات کے فروغ اور ٹیکس نظام کی بہتری کو ترجیح دی گئی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کرتے ہوئے اسے 8 فیصد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں اور عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی بھی مختص کی گئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران معیشت میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے ۔ آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور متعلقہ ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ سپر ٹیکس کو مرحلہ وار ختم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کا حجم 20 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو زرعی سرگرمیوں کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔وزیر خزانہ کے مطابق نوجوان قرض اسکیم کا حجم 262 ارب روپے ہے، جس میں سے 125 ارب روپے زراعت کے لیے مختص ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے۔

حکومت نے کوشش کی ہے کہ کم تنخواہ دار طبقے کو زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ تنخواہ پر 5 فیصد ٹیکس کو کم کرکے ایک فیصد اور 15 فیصد ٹیکس کو 13 فیصد کردیا گیا ہے، بڑی تنخواہوں اور سرچارج سے متعلق اقدامات پر مثبت ردعمل ملا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکس اور برآمدی نظام کی بہتری پر کام کیا گیا ہے، 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے قابل عمل اقدامات کیے گئے ہیں اور زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی کا حجم 20 ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔