’ناؤ یو گیٹ لاسٹ‘ایم پی اے کے بیٹے نے ڈی پی او ہٹوا دیا

واقعہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر حافظ آباد کے دفتر میں پیش آیا

June 13, 2026 · امت خاص

ڈی پی او حافظ آباد کامران کی تصویر، ان کے تبادلے کا نوٹی فکیشن، دوسری جانب حیدر علی بھٹی کی تصویر

حیدر علی بھٹی کے فیس بک اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹدفتر کا اندرونی واش روم کے استعمال کرنے کے تنازع پر،حافظ آباد کے ڈسٹرکٹ پولیس آفسر (ڈی پی او) کامران حمید کا تبادلہ ہوگیا۔ تبادلہ کرانے والے نوجوان نے اپنے ہی سوشل میڈیا پر اس پورے معاملے کی بلواسطہ تصدیق کردی اور ناؤ یوگیٹ لاسٹ (اب تم دفع ہو جاؤ) لکھ کر بہت کچھ بتا دیا۔

اطلاعات کے مطابق اس پورے معاملے کا آغاز ڈی پی او آفس میں ایک سیاسی بیٹھک کے دوران ہوا۔  جہاں ایک ایم پی اے کے صاحبزادے (جو آئندہ الیکشن میں ممکنہ امیدوار بھی ہیں) ،کے علاوہ ایک اور اہم سیاسی شخصیت شامل تھی۔ ان میں سے ایک صاحب اٹھے اور ڈی پی او کامران حمید کے پرسنل واش روم کی طرف بڑھ گئے۔

مبینہ طورپر ی پی او نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا ذاتی واش روم ہے اور بغیر اجازت استعمال نہ کیا جائے۔ سیاسی شخصیت نے تعارف کرایا اور معاملے میں لحاظ کرنے کی درخواست کی، مگر ڈی پی او نے سخت لہجے میں انکار کر دیا۔ بات بڑھتے بڑھتے ڈی پی او نے مبینہ طور پر کہا: “Get Lost۔

مہمان فوراً وہاں سے چلے گئے۔ بعد میں سوشل میڈیا پر افواہ پھیل گئی کہ ڈی پی او کامران حمید کا تبادلہ ہو گیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ خبر بے بنیادتھی، مگر چند روز کی سیاسی تگ و دو، فون کالز اور بالائی سطح کی مداخلت کے بعد افواہ حقیقت میں تبدیل ہو گئی۔ کامران حمید کا تبادلہ کر دیا گیا اور ان کی جگہ ایس پی رینک کے فواد احمد نے بطور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حافظ آباد چارج سنبھال لیا۔ فواد احمد کے چارج سنبھالنے کی تصویر بھی سامنے آگئی جب کہ کامران حمید کے تبادلے کے نوٹی فکیشن بھی سامنے آچکا ہے۔ انہیں لاہور بھیج دیا گیا ہے۔

تبادلے کے فوراً بعدسیاسی شخصیت میاں حیدر علی بھٹی نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر پوسٹ کی:Now You Get Lost۔ یعنی اب تم دفع ہو جاؤ۔

اس ایک سطر نے پورے واقعے کی تصدیق کر دی۔صارفین ان کی پوسٹ پر تبصروں میں کہہ رہے ہیں کہ سمجھداری خاموشی میں ہی تھی، اب آپ نے خود سب کو بتایا کہ اس دن جو ہوا تھا جو سب نے سن رکھا ہے سچ ہے۔آپ خاموش رہتے تو شاید لوگوں کو لگتا مبالغہ آرائی ہے۔۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ 17 دن بعد اس معاملے پر لب کھولنا بہادری نہیں تھی، ڈی پی او کو منہ پر ہی جواب دیا جاتا۔

یہ پوسٹ 21 گھنٹے بعد بھی حیدر علی بھٹی کے فیس بک اکاؤنٹ پر موجود تھی۔