وفاق خیبر پختونخوا کے 434 ارب دبا کر بیٹھا ہے، اسد قیصر

بجٹ میں خیبر پختونخوا کا حصہ صرف 3.8 فیصد رکھا گیا ہے، جو صوبے کی آبادی اور ضروریات کے لحاظ سے انتہائی ناانصافی پر مبنی ہے، قومی اسمبلی میں اظہار خیال

June 14, 2026 · اہم خبریں, قومی
اسد قیصر، فائل فوٹو

اسد قیصر، فائل فوٹو

اسلام آباد: سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے وفاق پر خیبر پختونخوا کے ساتھ شدید ناانصافی اور معاشی استحصال کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے ساتھ ہمیشہ سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور صوبے کے مالیاتی حقوق کی پامالی پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔

ایوان میں وفاق کے ذمے خیبر پختونخوا کے بقایاجات کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اس وقت وفاق نے صوبے کے مجموعی طور پر 434 ارب روپے اپنے پاس روک رکھے ہیں۔

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ نیٹ ہائیڈل پرافٹ (NHP) کی مد میں 68 ارب روپے، سابقہ فاٹا کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں اور فنڈز کی شکل میں 216 ارب روپے، آئل اینڈ گیس کے 83 ارب روپے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر صوبے کے 53 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب وفاق خود ایک صوبے کے 434 ارب روپے دبا کر بیٹھا ہے، تو وہ کس قانون کے تحت خیبر پختونخوا سے مزید 175 ارب روپے کا تقاضا کر رہا ہے۔

انہوں نے وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں صوبے کی محرومی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں خیبر پختونخوا کا حصہ صرف 3.8 فیصد رکھا گیا ہے، جو صوبے کی آبادی اور ضروریات کے لحاظ سے انتہائی ناانصافی پر مبنی ہے۔

اسد قیصر نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مخالفت اور انتقام کی وجہ سے خیبر پختونخوا کو دیوار سے لگانے کی پالیسی بند کی جائے اور صوبوں کے جائز حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے بجائے ان کے دیرینہ مالیاتی بقایاجات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔