کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال: شہری رُل گئے، آن لائن ٹیکسیز اور چنگچی رکشہ مالکان کی چاندی

بلک ٹرانسپورٹ نہ ملنے کے باعث ہزاروں شہریوں، جن میں نجی سیکیورٹی گارڈز اور پولیس اہلکار بھی شامل تھے، کو شدید گرمی میں گھنٹوں پیدل سفر کرنا پڑا۔

June 18, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی: شہرِ قائد میں ٹرانسپورٹرز کی اچانک ہڑتال کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ کا پہیہ جام ہو گیا ہے، جس نے لاکھوں شہریوں کو شدید ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ بسیں، منی بسیں اور کوچز اڈوں پر کھڑی کر دی گئیں۔

ہڑتال کے باعث صبح سویرے اپنے روزگار کے لیے نکلنے والے ملازمت پیشہ افراد اور دیہاڑی دار مزدور سڑکوں پر خوار ہوتے رہے۔ حب ریور روڈ، شیرشاہ، شاہراہِ فیصل اور دیگر اہم شاہراہوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ملنے کے باعث ہزاروں شہریوں، جن میں نجی سیکیورٹی گارڈز اور پولیس اہلکار بھی شامل تھے، کو شدید گرمی میں گھنٹوں پیدل سفر کرنا پڑا۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے آن لائن ٹیکسی سروسز، روایتی ٹیکسیوں اور چنگچی رکشہ مالکان نے کرایوں میں دو سے تین گنا اضافہ کر دیا۔ مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں سے من مانے کرائے وصول کیے جا رہے ہیں، جبکہ نجی گاڑیوں (لفٹ دینے والوں) کی مانگ اور نخرے بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔

کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کا مؤقف ہے کہ یہ ہڑتال انتظامیہ کے سخت رویے اور ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کے خلاف ہے۔

ٹرانسپورٹرز کے مطابق وہ درج ذیل مسائل کی وجہ سے گاڑیاں سڑکوں پر لانے سے قاصر ہیں،بھاری بھرکم چالان اور ای چالان کا “غیر منصفانہ” نظام۔ حکومت کی جانب سے طے شدہ سرکاری سبسڈی کی عدم ادائیگی۔ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے ریکارڈ روم سے فائلوں کا غائب ہونا۔مبینہ طور پر بڑھتی ہوئی بھتہ خوری اور پولیس کی جانب سے گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ۔مہنگائی کے تناسب سے کرایوں میں اضافے کی اجازت نہ ملنا۔

ٹرانسپورٹ اتحاد کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ جب تک انتظامیہ ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے سن کر ان کا حل نہیں نکالتی، تب تک ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے ایک تو پہلے ہی مہنگائی نے جینا محال کیا ہوا ہے، اوپر سے ٹرانسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے چنگچی اور بائیک رائڈرز اتنے پیسے مانگ رہے ہیں جو ہماری روزانہ کی دیہاڑی سے بھی زیادہ ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کہاں سوئی ہوئی ہے؟”

شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس سنگین سفری بحران کا فوری خاتمہ ممکن ہو سکے۔