بجٹ کی زیادہ رقم سود کی ادائیگی پر خرچ ہوگی۔ حافظ نعیم

تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ مہنگائی کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ امیر جماعت اسلامی

June 22, 2026 · قومی

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے وفاقی بجٹ کو عوامی مفاد کے بجائے قرضوں کے بوجھ کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں عوامی فلاح کے لیے کوئی نمایاں اقدام شامل نہیں کیا گیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 18 ہزار ارب روپے کے وفاقی بجٹ میں بڑی رقم قرضوں کے سود کی ادائیگی میں خرچ ہو جائے گی، جس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ایک اقلیتی رکن نے بھی سود کو اللہ تعالیٰ سے جنگ قرار دیا، لیکن اس کے باوجود قرضوں پر سود کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ سود کے خاتمے کے بجائے اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ سودی ادائیگیوں کی وجہ سے 540 ارب روپے کا اضافی بوجھ عوام پر پڑتا ہے، جبکہ حکومت ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم کے ذریعے قرضوں کا سود ادا کرتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی موجودہ شرح کے مقابلے میں یہ اضافہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ای او بی آئی کے معاملات میں بھی ملازمین کے ساتھ ناانصافی کی جاتی ہے، حالانکہ کارکنوں کی تنخواہوں سے باقاعدگی سے کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔