بیروت کے بے گھر افراد کا گھروں کی واپسی سے انکار
اسرائیلی حملوں سے 12 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہونے کا انکشاف
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے بے گھر افراد نے شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ بیروت کے ساحلی علاقے میں خیموں میں مقیم متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ جنگ بندی برقرار رہ سکے گی۔
60 سالہ محمد یاسین نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس وقت اپنے گھر جنوبی لبنان کے قصبے حولا واپس جائیں گے “جب کہا جائے گا کہ راستہ کھل گیا ہے اور حالات ٹھیک ہیں”۔ انہوں نے کہا: “ہم جنگ بندی پر اعتماد نہیں کرتے کیونکہ اسرائیل قابلِ اعتماد نہیں۔ وہ اپنی بات پر قائم نہیں رہتا۔”
اسی طرح 60 سالہ سوزان نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں کے بعد وہ اور ان کا خاندان بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے داحیہ میں بے گھر ہو گئے۔ ان کے مطابق ان کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور اب ان کے پاس واپس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
انہوں نے کہا: “ہمیں اعتماد نہیں کیونکہ کئی بار جنگ بندی کا اعلان کیا گیا لیکن پھر دوبارہ حملے شروع کر دیے گئے۔ یہ لوگ قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔”
یاد رہے کہ مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں لبنان میں کم از کم 4,106 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 12 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔