فرانس سے باڑہ تک: فرانسیسی خاتون نے 12 سال قبائلی علاقے میں کیسے گزارے؟
تین بچوں کی پیدائش بھی یہیں ہوئی، فرانسیسی پاسپورٹ بنے اور ان کی تجدید ہوتی رہی
کہاں فرانس کے خوبصورت مناظر اور کہاں ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں مٹی کا ایک کچا کمرہ۔ 54 سالہ فرانسیسی شہری سلوی یاسمینہ بلاریج کی زندگی کی کہانی ان دنوں پاکستان میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں پولیس نے انہیں مبینہ طور پر 12 سال تک قید نما حالات میں رہنے کے بعد بازیاب کرایا ہے۔
سلوی یاسمینہ نے ایک پاکستانی شہری احمد سے شادی کی تھی۔ پولیس کے مطابق دونوں کی ملاقات آسٹریلیا میں ہوئی اور 2003 میں وہیں شادی ہوئی۔ بعد ازاں ان کے بچے پیدا ہوئے اور خاندان مختلف اوقات میں پاکستان آتا جاتا رہا۔ شادی کے وقت احمد آسٹریلیا میں غیر قانونی مقیم تھے۔ خاتون نے ان کی مالی مدد بھی کی۔
خاتون کے مطابق 2014 میں وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ پاکستان آئیں اور حیات آباد پشاور سے ہوتے ہوئے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ منتقل ہو گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان آنے کے بعد انہیں عملاً گھر تک محدود کر دیا گیا اور وہ گزشتہ 12 برس سے آزادانہ زندگی نہیں گزار سکیں۔
پولیس دستاویزات اور ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون کے پانچ بچے ہیں۔ ان میں 2005 میں پیدا ہونے والی بیٹی کامیلا، 2007 میں پیدا ہونے والا بیٹا نور اللہ احمد اور دیگر بچے شامل ہیں، جبکہ ایک بچہ بولنے اور سننے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے۔ سب سے چھوٹا بیٹا عبدالمومن 2020 میں پیدا ہوا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان برسوں کے دوران نہ صرف بچوں کی پیدائش ہوتی رہی بلکہ ان کے فرانسیسی پاسپورٹ بھی بنتے اور تجدید ہوتے رہے۔ پولیس حکام کے مطابق خاتون اور ان کے تمام بچوں کے پاس فرانسیسی پاسپورٹ موجود ہیں، جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے۔ تمام بچوں کے پاسپورٹس کی آخری تجدید 10 مئی 2025 کو ہوئی۔
سلوی یاسمینہ اور اب کے بچوں کو ایک کچے مٹی کے بوسیدہ کمرے میں رکھا جاتا تھا اور ان کے شوہر کی جانب سے مسلسل جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ خاتون نے پولیس کو دیے گئے تحریری بیان میں الزام لگایا کہ ان کے شوہر روزانہ تشدد کرتے تھے۔
ان کے مطابق، “ہمارے چہروں اور جسموں پر تشدد کے گہرے نشانات موجود ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ احمد ایک شوہر اور باپ کا فرض ادا نہیں کر سکا۔
18 جون 2026 کو اس کہانی نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب ضلع خیبر پولیس کو ایک خفیہ اطلاع موصول ہوئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے باڑہ میں واقع گھر پر چھاپہ مارا اور سلوی یاسمینہ کو ان کے پانچ بچوں سمیت بحفاظت بازیاب کروا لیا۔
ضلعی پولیس آفیسر وقار احمد کے مطابق خاتون کے ایک بیٹے نے موقع ملنے پر گھر سے نکل کر مقامی پولیس کو صورتحال سے آگاہ کیا تھا، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔
خاتون کی درخواست پر پولیس نے ان کے شوہر احمد کے خلاف حبسِ بے جا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور گھریلو تشدد کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزم کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون اور ان کے بچوں کو پشاور کے ویمن کرائسز سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ کیس ویمن پولیس اسٹیشن پشاور کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
بازیابی کے بعد سلوی یاسمینہ کی سب سے بڑی خواہش اپنے وطن واپس جانا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق خاتون بار بار ایک ہی مطالبہ کر رہی ہیں: “مجھے میرے وطن فرانس واپس بھیج دو۔”
12 برس تک جاری رہنے والی یہ کہانی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایک فرانسیسی خاتون اور ان کے پانچ بچوں کا مستقبل متعلقہ اداروں، عدالتوں اور سفارتی حکام کے فیصلوں سے جڑا ہوا ہے۔
خاتون کے شوہر اور ان کے خاندان کا موقف سامنے نہیں آسکا۔