سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی قیادت کےمبینہ قتل کی سازش تیارہونے کا دعویٰ

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے منصوبہ تیارکیاتھا، برازیلین صحافی

June 24, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

 

سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی وفد کے خلاف مبینہ قتل کی سازش سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعووں کو پاکستانی حکام نے مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب جیوپولیٹیکل تجزیہ کار ،برازیلین صحافی پیپ ایسکوبار نے ماریو نوافل کے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی وفد، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ان کے مطابق پاکستانی فوجی انٹیلی جنس کو اس مبینہ منصوبے کی بروقت اطلاع مل گئی تھی جس کے بعد اسرائیل کو سخت پیغام دیا گیا اور مبینہ سازش ناکام ہوگئی۔

پیپے ایسکوبار کے اس دعوے کو بعد ازاں ماریو نوافل نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا، جس کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا۔

معروف صحافی کامران خان نے ایک سینیئر پاکستانی سیکیورٹی اہلکار کے حوالے سے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ اہلکار کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر مشتمل پاکستانی وفد کا سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل طور پر معمول کے مطابق اور بغیر کسی سیکیورٹی خدشے کے اختتام پذیر ہوا۔

سیکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ دورے کے دوران کسی مرحلے پر نہ سوئس حکام اور نہ امریکی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کسی قسم کا سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا۔ ان کے بقول پاکستانی وفد کی حفاظت کے تمام انتظامات مکمل طور پر مؤثر اور فعال تھے۔مذکورہ اہلکار نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے لوسرن میں قیام کے دوران بھی سیکیورٹی انتظامات معمول کے مطابق برقرار رہے اور کسی غیر معمولی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

پاکستانی حکام نے قتل کی مبینہ سازش کے دعوے کو بکواس اور افسانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔

اب تک پیپے ایسکوبار کے دعوؤں کی کسی آزاد یا معتبر بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق نہیں ہوسکی ۔ کسی بڑے عالمی میڈیا ادارے نے بھی اس مبینہ واقعے کی توثیق نہیں کی۔