بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کر سکتا، وفاقی وزیر
پاکستان میں پہلی بار سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف ممالک سے آبی وسائل کے ماہرین شریک ہیں۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اور بین الاقوامی برادری نے اس معاہدے کی قانونی حیثیت کی توثیق کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور پانی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق وزیراعظم اور عسکری قیادت بھی متعدد مواقع پر پانی کو پاکستان کی بقا سے جوڑ چکے ہیں۔
پانی ہماری ریڈ لائن بھی ہے اور لائف لائن بھی ہے، عطا اللہ تارڑ pic.twitter.com/10K9pKYbo3
— Ahsan Jadoon (@AhsanJadooncxz) June 29, 2026
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف ممالک سے آبی وسائل کے ماہرین شریک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سیمینار سے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر تقویت ملے گی بلکہ سندھ طاس معاہدے کی اہمیت اور پاکستان کے قانونی مؤقف کو بھی مزید اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔