یورپ میں شدید گرمی،پھر بھی گھروں میں اے سی کیوں کم لگائے جاتے ہیں؟
موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، جس کے بعد مستقبل میں گھروں میں ایئر کنڈیشنرز کی مانگ میں اضافہ متوقع ہے۔
یورپ میں اس وقت شدید گرمی کی لہر جاری ہے، تاہم اس کے باوجود بیشتر گھروں میں ایئر کنڈیشنر موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی کئی اہم وجوہات ہیں جن کا تعلق تعمیراتی قوانین، معاشی عوامل اور مقامی طرزِ زندگی سے ہے۔
سب سے بڑی وجہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ سے متعلق سخت قوانین ہیں۔ فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں متعدد رہائشی عمارتیں ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں، جہاں عمارت کے بیرونی حصے میں تبدیلی یا اے سی یونٹ نصب کرنے پر پابندیاں عائد ہیں۔
دوسری جانب جرمنی، آسٹریا اور کئی دیگر ممالک میں بڑی تعداد میں لوگ کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں۔ ایسے میں کرایہ داروں کو اے سی لگانے کے لیے مالک مکان کی اجازت درکار ہوتی ہے، جبکہ عارضی رہائش کے باعث وہ اس پر بھاری اخراجات کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
ایک اور اہم وجہ بجلی کی بلند قیمتیں ہیں۔ یورپ میں توانائی کے اخراجات نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث اے سی کا استعمال مہنگا سمجھا جاتا ہے، اسی لیے بہت سے لوگ اسے روزمرہ ضرورت کے بجائے اضافی سہولت تصور کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یورپی ممالک میں روایتی طور پر گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے دوسرے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، جن میں کھڑکیاں رات کے وقت کھلی رکھنا، موٹے پردے یا شٹر استعمال کرنا اور قدرتی ہوا سے فائدہ اٹھانا شامل ہے۔
اس کے علاوہ کئی ممالک میں اے سی نصب کرنے والے ماہرین کی تعداد بھی محدود ہے، جس کے باعث تنصیب پر زیادہ لاگت آتی ہے اور خدمات کے لیے پہلے سے وقت لینا پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، جس کے بعد مستقبل میں گھروں میں ایئر کنڈیشنرز کی مانگ میں اضافہ متوقع ہے۔