آزاد کشمیر کا 2026-27 کا بجٹ پیش، مجموعی حجم 286 ارب روپے
ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں کے لیے مختلف منصوبوں کا اعلان
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ قانون ساز اسمبلی میں پیش کر دیا، جس میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں کے لیے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی بجٹ کا حجم 286 ارب روپے رکھا گیا ہے، جس میں 36 ارب روپے ترقیاتی جبکہ 250 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران ٹیکس آمدن کا ہدف 75 ارب 20 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ کے مطابق مختلف ترقیاتی منصوبوں کے تحت 671 نئی سڑکیں تعمیر کی جائیں گی، 394 کلومیٹر سڑکوں کی مرمت کی جائے گی، 376 میٹر طویل آر سی سی پل اور 97 میٹر طویل بیلی برج بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہر انتخابی حلقے میں 10 کلومیٹر رابطہ سڑکوں کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
توانائی کے شعبے میں 118 کلومیٹر نئی بجلی کی لائنیں بچھانے اور ہنر مند افراد کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ 2005 کے زلزلے سے متاثرہ نامکمل اسکولوں کی تعمیر کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اسپتالوں کی تعمیر و توسیع کے لیے 4 ارب 10 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
بجٹ میں جنگلات میں آگ سے بچاؤ کے لیے فائر بریک لائنیں قائم کرنے، آگ بجھانے کے آلات اور حفاظتی سامان کی فراہمی کے علاوہ میرپور میں ڈرائی پورٹ کے قیام کا منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے۔