طالبان کاافغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردکارروائیاں تسلیم کرنے کاانکشاف
نظریاتی روابط کے باعث جنگجوٹی ٹی پی میں شامل ہو رہے ہیں ،نیویارک ٹائمز
امریکی اخبارنے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کے عہدیدار نجی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ افغان جنگجو پاکستانِ طالبان میں شامل ہو رہے ہیں، کیونکہ دونوں گروہوں کے درمیان نظریاتی روابط ہیں اور انہوں نے امریکہ کی قیادت میں افغانستان کی جنگ کے دوران ایک ساتھ لڑائی کی تھی۔ تاہم عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان جنگجوؤں کا اس گروہ کے اقدامات پر بہت کم اثر ہے۔
نیویارک ٹائمزنے یہ بات پاکستان کی طرف سے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردی مراکزپر تازہ حملوں پر اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔
اتوار کے فضائی حملوں میں پکتیکا، پکتیا اور کنر صوبوں کو نشانہ بنایاگیا تھا۔وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑنے ایکس پر بتایاتھاکہ اہم خوارج کمانڈر سمیت 29 دہشت گرد مارے گئے۔
امریکی اخبارکے مطابق ، پکتیا میں دو فضائی حملے ایک ہی عمارت پر 10 منٹ کے وقفے سے ہوئے۔
دونوں فریق حالیہ ملاقاتوں میں میں تناؤ کا کوئی دیرپا حل تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔دونوں ممالک کے ایک درجن کے قریب سابق سفیروں اور غیر سرکاری نمائندوں کا ایک وفداس ماہ کے شروع میں استنبول میں ملا اور ایک امن تجویز تیار کی (جو پہلے رپورٹ نہیں ہوئی تھی) جس میں دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستانِ طالبان ( ٹی ٹی پی ) اور داعش خراسان (افغانستان میں داعش کا ایک دھڑا) جیسے جنگجو گروہوں کو جزوی طور پر غیر مسلح کریں۔
تجویز میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارت دوبارہ شروع کرنے سمیت دیگر اقدامات بھی شامل ہیں۔
دو شرکا، جنہوں نے اس خفیہ بات چیت کی تفصیلات بتانے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کہا کہ اہم چیلنج یہ ہوگا کہ اس تجویز کو اپنی اپنی حکومتوں تک پہنچایا جائے اور انہیں سرکاری امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر قائل کیا جائے۔