لاہور: کاہنہ نو میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کی وجوہات سامنے آ گئیں

 عمارت کی اوپر والی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا، ناقص میٹریل کے باعث زمین بوس ہو گئی، ٹھیکیدار، مستری اور مالک مکان سمیت 5 افراد گرفتار، فوجداری تحقیقات کا آغاز۔

June 30, 2026 · امت خاص, اہم خبریں
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

لاہور کے علاقے کاہنہ نو (بستی عیدگاہ) میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 سے زائد معصوم بچے جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ٹھیکیدار، مستری اور مالک مکان سمیت 5 افراد کو حراست میں لے کر فوجداری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات اور عینی شاہدین کے مطابق عمارت کی اوپر والی منزل پر تعمیراتی کام جاری تھا جہاں مزدور اور مستری کام میں مصروف تھے۔ ٹی آئرن اور گارڈرز پر مشتمل پرانی چھت اوپر ہونے والے کام، مزدوروں کی نقل و حرکت اور ناقص میٹیریل کے باعث اچانک وزن نہ سہہ سکی اور زوردار دھماکے سے نیچے پڑھتے ہوئے بچوں پر آ گری۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، فیصل کامران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ عمارت کے اوپر تعمیراتی کام چل رہا تھا جس کی وجہ سے یہ لرزہ خیز حادثہ پیش آیا۔ پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے جائے وقوعہ سے تعمیراتی کام کرنے والے ٹھیکیدار، مستری اور مالک مکان سمیت 5 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف غفلت و لاپرواہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمشنر لاہور سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور صوبے بھر میں غیر قانونی عمارات اور اسکولوں کی فٹنس کا جائزہ لینے کا حکم جاری کیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے ذمہ داران کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔

ڈاکٹرز کے مطابق اں بحق ہونے والے زیادہ تر بچوں کی موت ملبے تلے دم گھٹنے اور گہرے زخموں کے باعث ہوئی۔ زخمیوں میں ایک خاتون ٹیچر بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایمرجنسی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں آج ہونے والے حادثے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آج سہ پہر چار بجکر 43 منٹ پر کاہنہ نو کے علاقے سے ایک کال موصول ہوئی، جس میں اطلاع دی گئی کہ ایک گھر کی چھت گر گئی ہے اور ملبے تلے افراد دب گئے ہیں۔

بیان کے مطابق ریسکیو ٹیمیں چند ہی منٹوں میں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں، جہاں معلوم ہوا کہ ٹی آئرن اور گارڈر پر مشتمل چھت منہدم ہو گئی تھی، جس کے نیچے ٹیوشن پڑھنے آنے والے طلبہ و طالبات اور ایک ٹیچر دب گئے تھے۔

ان کے مطابق ریسکیورز نے فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہوئے 30 سالہ ٹیچر سمیت 19 افراد کو انتہائی تشویشناک حالت میں ملبے سے نکالا اور سی پی آر دیتے ہوئے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہسپتال ذرائع کے مطابق 14 زخمی ہلاک ہو گئے۔

ہلاک ہونے والوں میں سات بچیاں شامل ہیں۔ 12 بچوں کی عمریں پانچ سے نو سال کے درمیان ہیں، جبکہ دو بچیوں کی عمریں بالترتیب 11 اور 16 سال ہیں۔

زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون ٹیچر بھی شامل ہیں، جن کی عمر 30 سال بتائی گئی ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی کارروائی ایک گھنٹے میں مکمل کر لی گئی۔

اس حادثے میں 14 بچے ہلاک ہوئے،جن میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے بچے شامل ہیں۔

  • دعا ولد گلفام، عمر نو سال
  • ماہ نور ولد فاروق، عمر سات سال
  • رمشا ولد عاطف، عمر سات سال
  • ارتضیٰ ولد عاطف، عمر پانچ سال
  • تسبیحہ ولد شہزاد، عمر چھ سال
  • خدیجہ ولد وسیم، عمر سولہ سال
  • سلمان ولد وسیم، عمر چھ سال
  • فواد ولد عابد، عمر آٹھ سال
  • عبداللہ ولد مصطفیٰ، عمر چھ سال
  • عروج ولد مصطفیٰ، عمر نو سال
  • ایمن فاطمہ ولد مصطفیٰ، عمر گیارہ سال
  • ارحم ولد حسن، عمر آٹھ سال
  • عبداللہ ولد اصغر، عمر آٹھ سال
  • علی فرمان ولد فرمان علی، عمر آٹھ سال

زخمیوں میں چار بچے اور ایک ٹیچر شامل ہیں