غیرملکی لڑکیوں کے مبینہ اغوااور زیادتی کا مقدمہ درج کرنے والے ایس ایچ او پر بھی ایف آئی آر
2 پولیس اہلکار نامزد ۔ زبردستی گھر میں گھسنے کا الزام
فائل فوٹو
لاہور میں دو غیرملکی لڑکیوں کے مبینہ اغوا کے معاملے میں ایک نیا موڑ سامنے آگیا۔ مقدمہ درج کرنے والے ایس ایچ او کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ہالینڈ اور اسپین سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے اغوا اور ان سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں دو جولائی کو درج ہوا تھا جس میں وقوعہ 29 جون کا بیان کیا گیا۔ تاہم تین جولائی کی صبح 8 بجے لاہور کے تھانہ مصطفیٰ آباد میں تھانہ ڈیفنس سی کے ایس ایچ او فریاد اور دو نامعلوم اہلکاروں کے خلاف ایک گھر میں گھسنے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ گھر جوڈیشل مجسٹریٹ کا تھا۔
مقدمے میں درج ہے کہ تینوں اہلکار زبردستی گھر میں گھسے، مجسٹریٹ صاحب سے بدتمیزی سے بات کی اور انہیں کہا کہ وہ فون پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سے بات کریں۔ تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ نے فون پر بات کرنے سے انکار کردیا اور اہلکاروں کو وہاں سے جانے کا کہا۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس واقعے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز نے مجسٹریٹ سے معذرت کی اور ایس ایچ او کو معطل کردیا۔ بعض صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ پولیس رات کو ہی ملزمان کا میڈیکل کرانا چاہتی تھی اور اس کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی اجازت درکار تھی۔