کالعدم ایکشن کمیٹی کی بدامنی سے 15 ارب روپے کا نقصان ہوا،حکومت آزاد کشمیر

قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، سیکریٹری اطلاعات و ڈی آئی جی پولیس کی پریس کانفرنس

July 6, 2026 · اہم خبریں, قومی
سیکریٹری اطلاعات اور ترجمان آزاد کشمیر پولیس کی اہم پریس کانفرنس

سیکریٹری اطلاعات اور ترجمان آزاد کشمیر پولیس کی اہم پریس کانفرنس

مظفر آباد : حکومت آزاد کشمیر کے سیکریٹری اطلاعات اور ترجمان آزاد کشمیر پولیس (ڈی آئی جی) نے ایک مشترکہ اور انتہائی اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے پرتشدد کارروائیوں سے خطے کا امن تباہ کرنے کی سازش کی ہے، جس کے باعث گزشتہ ایک ماہ کے دوران ریاست کو مجموعی طور پر 15 ارب روپے کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی حقوق کے نام پر شروع ہونے والی تحریک کو شرپسند اور ذیلی قوم پرست عناصر نے ہائی جیک کر لیا ہے، اور اب ان کے پاس قانون کے حوالے ہونے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ عوام کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر ہڑتال ناکام ہوئی تو ان سے بنیادی حقوق چھین لیے جائیں گے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت آزاد کشمیر پہلے ہی عوام کو سستا آٹا اور سستی بجلی کی مد میں بڑی سبسٹڈی دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عناصر انتخابات میں خلل ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جو جمہوری عمل پر حملہ ہے۔ یہ لوگ معصوم عوام کو مسلح افواج اور پاکستان کے خلاف اکساتے ہیں اور پاک فوج کے جوانوں کو بغاوت کی ترغیب دیتے ہیں، جبکہ خود کو سول نافرمانی کے لیے کبھی رجسٹرڈ تک نہیں کروایا۔

سیکریٹری اطلاعات نے انکشاف کیا کہ کالعدم کمیٹی امجد ایوب مرزا جیسے ملک دشمن عناصر سے مدد لے رہی ہے، جو بھارتی فنڈنگ پر یورپ میں بیٹھ کر کشمیریوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان شرپسندوں پر 79 ایف آئی آرز درج ہیں، اور ان کی 5 جولائی کی ہڑتال کی کال کو عوام اور تاجروں نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ پونچھ اور سدھنوتی میں خوف و ہراس پھیلا کر نوجوانوں سے قلم چھین کر ڈنڈے تھمائے گئے۔ جلسوں میں “غیر ملکی قابضوں کشمیر ہمارا چھوڑ دو” اور “یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” جیسے ریاست مخالف نعرے لگائے گئے اور منگلا سے بجلی کی ترسیل روکنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

پریس کانفرنس میں ماضی اور حال کی پرتشدد کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا کہ مئی 2023: اسسٹنٹ کمشنر ڈڈیال کے دفتر پر حملہ اور سرکاری گاڑی کو آگ لگائی گئی۔اسلام گڑھ و کھوئی رٹہ: سب انسپکٹر عدنان قریشی کو گولی مار کر شہید کیا گیا اور اے سی کی گاڑی جلائی گئی۔

نومبر 2024: پلاک میرپور کے مقام پر اسلام آباد پولیس کو یرغمار بنا کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی وردیاں اتاری گئیں۔دھیرکوٹ و چمیاٹی: اسسٹنٹ کمشنر امجد قادر پر خنجر سے قاتلانہ حملہ کیا گیا جبکہ ایس پی باغ ریاض مغل سمیت دیگر اہلکاروں پر تشدد کیا گیا۔ دھیرکوٹ میں فائرنگ سے 3 پولیس اہلکار اور 2 شہری شہید ہوئے۔

راستوں کی بندش: شرپسندوں نے راستے بند کرنے کے لیے سینکڑوں درخت کاٹ دیے، ہجیرہ میں ٹرک لوٹ کر عوام کو اشیائے خورونوش سے محروم کیا اور مسجدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے انہیں اعلانات کے لیے استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر غزہ اور مقبوضہ کشمیر کی پرانی تصاویر کا سہارا لے کر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ پونچھ میں خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یکم جولائی 2026 کو مسلح افراد نے سنگولہ بازار میں شہریوں پر تشدد کیا، جبکہ 4 جولائی کو فائرنگ کا جھوٹا پروپیگنڈا مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے پھیلایا گیا۔

ڈی آئی جی و ترجمان آزاد کشمیر پولیس نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کالعدم کمیٹی کے جتھوں کی غنڈہ گردی کی وجہ سے راشن کے ٹرک لوٹے گئے، جس کے باعث اب ڈرائیورز آزاد کشمیر آنے سے کتراتے ہیں، تاہم جلد تمام راستے کلیئر کرا دیے جائیں گے۔ انہوں نے سی ایم ایچ راولاکوٹ میں مریضوں اور زخمیوں کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیری روایات پر سیاہ دھبہ قرار دیا۔ راولاکوٹ میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر کے 3 جوانوں کو شہید کیا گیا۔ 7 جون کو سی ایم ایچ کا گیٹ آزاد کرانے کے آپریشن پر بھی جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ ہجیرہ میں سڑکوں کی جبری بندش کے باعث طبی امداد نہ ملنے سے 3 خواتین جاں بحق ہو گئیں جن میں 2 ڈیلیوری کیسز اور ایک عارضہ قلب کی مریضہ شامل تھیں۔ شرپسندوں نے نجی گاڑیاں روک کر شہریوں کے شناختی کارڈ چیک کیے اور والدہ کے جنازے پر جانے والے اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی کو راولاکوٹ کے قریب بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر گن پوائنٹ پر زبردستی ویڈیو بیان ریکارڈ کروایا۔ اسی طرح والد کے انتقال کے بعد ڈیوٹی پر جانے والے دوسرے اہلکار کو بھی جنڈالہ چیک پوسٹ پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

پولیس ترجمان نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 17 کارندوں سے مہلک ہتھیار اور کیلوں والے ڈنڈے برآمد کیے گئے ہیں۔ 4 جولائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اندھا دھند فائرنگ کا پروپیگنڈا کرنے والوں کو ریاست چیلنج کرتی ہے کہ وہ مستند فوٹیج پیش کریں۔ فائرنگ کی آوازیں ہجوم کے اندر موجود مسلح کارندوں کی تھیں جن کا الرٹ پہلے ہی جاری تھا۔ مزید برآں، 5 جولائی کو ڈڈیال میں سرغنہ خواجہ مہران کی ایماء پر مسلح جتھوں کی فائرنگ سے 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس حکام نے واضح کیا کہ معصوم عوام من گھڑت کہانیوں پر کان نہ دھریں اور شرپسند عناصر اب قانون کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔