ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا، ایرانی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ

ایران کے خلاف کیے جانے والے ہر اقدام کی قیمت چکانا پڑتی ہے اور یہ پالیسی بدستور برقرار ہے

July 27, 2026 · بام دنیا

 تہران: ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ حملے کا مناسب جواب دیا جائے گا اور ایران اپنی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام کو نظر انداز نہیں کرے گا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کیے جانے والے ہر اقدام کی قیمت چکانا پڑتی ہے اور یہ پالیسی بدستور برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے حکام اور روسی وزیر خارجہ سے بھی بات چیت کی گئی ہے، جس میں واقعے اور اس کے ممکنہ ردعمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا تھا کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے حکم پر ایک ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ملاح ہلاک ہوا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

عباس عراقچی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو جاری جنگ میں مزید شامل کیا جا سکے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یوکرینی افواج نے ایسے جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اسے ایران کے لیے فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایران اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔