محمد رضوان کا این سی سی آئی اے کو تیسرا خط،انکوائری سے متعلق مزید وضاحت طلب
پہلے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق الزامات کا ذکر کیا گیا تھا، جبکہ عدالت میں ایجنسی کی جانب سے پیکا 2016 کے تحت الیکٹرانک فراڈ کی شق کا حوالہ دیا گیا۔
محمد رضوان کا این سی سی آئی اے کو تیسرا خط،انکوائری سے متعلق مزید وضاحت طلب
قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے اپنے خلاف جاری انکوائری کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو تیسرا خط ارسال کردیا ہے۔
محمد رضوان نے خط میں این سی سی آئی اے کے 2 اکتوبر کو طلب کیے جانے کے نوٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نوٹس موصول ہوگیا ہے اور وہ مقررہ تاریخ پر انکوائری میں پیش ہونے کے لیے تیار ہیں۔
خط میں محمد رضوان نے انکوائری کے دائرہ کار سے متعلق مزید تفصیلات طلب کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق الزامات کا ذکر کیا گیا تھا، جبکہ عدالت میں ایجنسی کی جانب سے پیکا 2016 کے تحت الیکٹرانک فراڈ کی شق کا حوالہ دیا گیا۔
محمد رضوان کے مطابق نئے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ یا جوئے کے الزامات کا ذکر موجود نہیں، اس لیے انکوائری کے موجودہ دائرہ کار کو واضح کیا جائے۔
انہوں نے این سی سی آئی اے سے سوال کیا کہ کیا انکوائری اب بھی آن لائن بیٹنگ یا جوئے کے الزامات سے متعلق ہے؟ اس کے علاوہ پیکا 2016 کی کون سی مخصوص دفعات انکوائری کا حصہ ہیں؟ اگر پہلے نوٹس کے بعد تحقیقات کا دائرہ کار تبدیل کیا گیا ہے تو اس بارے میں تحریری طور پر آگاہ کیا جائے۔
محمد رضوان نے یہ بھی پوچھا کہ بیٹنگ اور جوئے سے متعلق الزامات ان کے کرکٹ کیریئر اور ساکھ سے جڑے معاملے میں تبدیل ہوئے ہیں تو کیا انکوائری کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)، آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ یا کسی دوسرے متعلقہ کرکٹ ادارے کو آگاہ کیا گیا ہے۔
خط میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پی سی بی یا آئی سی سی سے اس معاملے میں کوئی معلومات حاصل کی گئی ہیں یا ان سے رابطہ کیا گیا ہے۔
محمد رضوان کے مطابق ان کا موبائل فون اس وقت این سی سی آئی اے کے پاس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے انگلینڈ میں اور پہلی پیشی کے موقع پر موبائل فون کا پاس ورڈ فراہم کیا تھا اور ان کی موجودگی میں ڈیوائس کو دوبارہ کھول کر چیک بھی کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ موبائل فون ضبط کیے جانے کی رسید، وارنٹ، کسٹڈی ریکارڈ یا ڈیوائس کو مسلسل اپنے پاس رکھنے سے متعلق کوئی تحریری دستاویز انہیں فراہم نہیں کی گئی۔
محمد رضوان نے فرانزک معائنے سے متعلق بھی وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا جائے کہ مزید کس ذاتی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فرانزک عمل جلد مکمل کرکے موبائل فون واپس کرنے کی درخواست کی۔
خط کے آخر میں محمد رضوان نے کہا کہ انہیں اب تک یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ ان پر اصل الزام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی قانونی انکوائری میں مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔