دل کے مریضوں کے لیے بڑی خوشخبری،پمز میں ملک کے پہلے سرکاری پلسڈ فیلڈ ابلیشن پروگرام کا افتتاح

اس اشتراک سے پالستان میں پہلی بار سرکاری شعبے میں اس جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا گیا ہے، جس سے دل کے مریضوں کی تشخیص اور علاج میں نمایاں بہتری آئے گی۔

July 7, 2026 · قومی

اسلام آباد (افضل شاہ یوسفزئی) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ملک کے پہلے سرکاری پلسڈ فیلڈ ابلیشن پروگرام کا افتتاح کر دیا۔اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر اختر بندیشہ نے منصوبے کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پروگرام ایٹریل فیبریلیشن جیسے پیچیدہ دل کے عارضے کے علاج میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے نظام کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ بڑے اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے 28 بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو فعال کیا جا رہا ہے تاکہ معمولی بیماریوں کے مریضوں کو مقامی سطح پر علاج کی سہولت میسر آ سکے

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک میں ہر منٹ ایک شخص دل کے عارضے میں مبتلا ہوتا ہے جبکہ ہر تیسرا شہری شوگر کا مریض ہے۔ انہوں نے آبادی میں تیز رفتار اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی صحت کے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال رہی ہے

اس موقع پر پروجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر اختر بندیشہ نے بتایا کہ منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 7.25 ارب روپے ہے، جس کی منظوری میں تقریباً ایک سال لگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے کے لیے 900 ملین روپے جاری کیے گئے، جن سے فیز ون مکمل کیا گیا، جبکہ جدید طبی سہولت کے آلات پر تقریباً 700 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں

پروجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر اختر بندیشہ نے بتایا کہ پلسڈ فیلڈ ابلیشن ایک جدید، محفوظ اور تیز رفتار طریقۂ علاج ہے۔ اس طریقہ کار میں آپریشن مکمل ہونے میں تقریباً 45 منٹ لگتے ہیں اور زیادہ تر مریضوں کو اسپتال میں داخل رکھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ مریض علاج کے بعد مختصر نگرانی کے بعد گھر جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف علاج کا دورانیہ کم ہوتا ہے بلکہ مریضوں پر مالی اور جسمانی بوجھ بھی کم ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پلسڈ فیلڈ ابلیشن پروگرام کے تحت دل کی دھڑکن کی خطرناک بے ترتیبی ایٹریل فیبریلیشن کا علاج جدید ترین اور محفوظ ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل طور پر مفت فراہم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان میں اندازاً 30 سے 50 لاکھ افراد ایٹریل فیبریلیشن کا شکار ہیں، جو فالج اور ہارٹ فیلیر کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرتی ہے

اس جدید پروگرام سے ہزاروں مریضوں کو عالمی معیار کا علاج سرکاری سطح پر میسر آئے گا۔پروفیسر ڈاکٹر اختر بندیشہ نے منصوبے کی تکمیل میں تعاون پر بوسٹن سائنٹیفک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اشتراک سے پالستان میں پہلی بار سرکاری شعبے میں اس جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا گیا ہے، جس سے دل کے مریضوں کی تشخیص اور علاج میں نمایاں بہتری آئے گی۔