خیبرپختونخوا ارکان اسمبلی پرنوازشات۔صحافیوں کے لیے سزائوں کااختیار سپیکر کو تفویض

وی آئی پی سہولیات ،اسلحہ کے متعدد لائسنس ، ٹول ٹیکس استثنیٰ ،اے کیٹیگری سیکیورٹی شامل

July 7, 2026 · امت خاص

تصویر: سوشل میڈیا

 

خیبرپختونخوا میں ارکان اسمبلی پر مراعات کی بارش کردی گئی۔اسمبلی نے قانون منظور کیا ہے جس کے تحت رکن اسمبلی کو 8 اسلحہ لائسنس،تمام ٹول ٹیکسوں سے استثنیٰ ملے گا ۔رکن اسمبلی اور اس کی شریک حیات کو تاحیات سرکاری پاسپورٹ (بلیو پاسپورٹ) کے علاوہ خصوصی بی کیٹگری سیکیورٹی ملے گی ۔ بعض حالات میں اے کیٹیگری بھی مل سکتی ہے ۔شریک حیات کو خصوصی اسمبلی شناختی کارڈ بھی جاری کیا جائے گا۔ سرکاری سرکٹ ہاوسز، ریسٹ ہاوسز اور ڈاک بنگلوں میں قیام مفت ہوگا۔

قانون کے تحت ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں پر ارکان اسمبلی کو وی آئی پی لاؤنج استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، انہیں اپنی ذاتی گاڑی پر خصوصی ایم پی اے نمبر پلیٹ لگانے اور کالے شیشوں والی ذاتی گاڑی استعمال کرنے کی بھی قانونی اجازت دی گئی ہے۔مزید برآں، ارکان اسمبلی کو سرکاری افسران کے مساوی کلب ممبرشپ کی سہولت حاصل ہوگی، انہیں جیلوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر سرکاری دفاتر کے دورے، سرکاری منصوبوں اور ترقیاتی سکیموں کے معائنے کے اختیارات بھی دیئے گئے ہیں۔

نئے قانون کے تحت خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان کو جسٹس آف دی پیس کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔گزٹ نوٹیفکیشن کے اجرا کے ساتھ ہی اسمبلی ارکان کے استحقاق، خصوصی مراعات، سفری، پروٹوکول اور انتظامی سہولیات کو قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔

دوسری طرف ،‏صحافیوں کیلئے قید ، جرمانہ اور پابندی کا سپیکر کو اختیاردے دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی صحافی کو ایوان کی کارروائی کی کوریج سے روک سکتا ہے اور اس پر خاص مدت تک کیلئے پابندی عائد کرسکتا ہے۔‏سپیکر کے پاس اب اختیار ہے کہ وہ ایوان کی کسی بھی کارروائی کو شائع یا نشر کرنے سے روک کر اس پر پابندی عائد کرسکتا ہے۔‏خلاف ورزی کرنے پر صحافی کو 6 ماہ تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا‏اگر کوئی صحافی یا ادارہ اسمبلی کارروائی توڑ مروڑ کر رپورٹ کرے گاتو اس کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔۔تین سال تک قید اور تین لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔

‏سپیکر پر جانبداری کا الزام لگانے یا سپیکر کے کردار پر تنقید کرنے والے صحافی کو 6 ماہ قید اور 10 لاکھ تک جرمانہ کیا جاسکے گا‏۔کسی بھی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ٹیبل ہونے سے پہلے نشر یا شائع کرنے پر صحافی کو 3 ماہ تک قید اور 3 لاکھ تک جرمانہ کیا جاسکے گا‏۔تحریک التوا ٹیبل ہونےسے قبل نشر یا شائع کرنے پر ایک ماہ تک قید اور ایک لاکھ تک جرمانہ ہوسکے گا۔