بحرالکاہل میں چین کا بیلسٹک میزائل تجربہ، امریکا اور اتحادی ممالک کی تشویش میں اضافہ

چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، جس سے خطے میں اسٹریٹجک توازن اور سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں

July 9, 2026 · بام دنیا

بحرالکاہل میں چین کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے حالیہ تجربے کے بعد امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ چین نے 6 جولائی کو ہونے والے میزائل تجربے سے چند گھنٹے قبل اس بارے میں محدود معلومات فراہم کیں، تاہم امریکا کے مطابق یہ پیشگی اطلاع بین الاقوامی سطح پر طے شدہ شفافیت کے معیارات پر پوری نہیں اترتی۔

امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، جس سے خطے میں اسٹریٹجک توازن اور سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے ایشیا بحرالکاہل کے ممالک میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق چین نے اپنی ایک جوہری آبدوز سے بحرالکاہل میں بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، جس پر امریکا سمیت جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور تائیوان نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب چین کی جانب سے اس معاملے پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں بیجنگ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی دفاعی سرگرمیاں قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات کے دائرے میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں اور بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی خطے کی سکیورٹی اور اسٹریٹجک توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں، جس پر عالمی برادری مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔