مفتی تقی عثمانی سمیت جید علما نے کرپٹو کرنسی کی شرعی حیثیت پر فتویٰ جاری کردیا

اسے مال قرار نہیں دیا جا سکتا،جامعہ دارالعلوم کراچی

 

جامعہ دارالعلوم کراچی نے کرپٹو کرنسی کی شرعی حیثیت پر فتویٰ جاری کیا ہے۔ صدر جامعہ مفتی تقی عثمانی اور دیگر علما کے دستخطوں سے جاری اس فتوے کی رو سےاسلامی شریعت کی روشنی میں کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

فتوے میں کہا گیا ہے کہ مختلف ناموں جیسے ورچوئل کرنسی، ٹوکن اور اسٹیبل کوائن سے پہچانے جانے والے تمام ڈیجیٹل اثاثے ایک ہی زمرے میں آتے ہیں، اس لیے ان پر ایک ہی شرعی حکم لاگو ہو گا۔
فتویٰ جاری کرنے والے علمائے کرام کی رائے ہے کہ ماہرین کی تحقیق کرپٹو کرنسی کو مال نہیں ، بلکہ محض کھاتہ میں فرضی نمبروں کا اندراج ثابت کرتی ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی ڈیجیٹل اثاثے کا نام تبدیل کر دینے یا اسے نئے عنوان سے پیش کرنے سے اس کی شرعی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔

فتوے کے مطابق کرپٹو کرنسیاں اسلامی شریعت کی رو سے “مال” یا “جائیداد” کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں، لہٰذا ان کی خرید و فروخت جائز نہیں۔

دستاویز میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ “کرپٹو کرنسی کو مال قرار نہیں دیا جا سکتا، اس کی خرید و فروخت جائز نہیں۔

یہ حکم صرف معروف کرپٹو کرنسیوں جیسے بٹ کوائن اور ایتھیریم تک محدود نہیں بلکہ بلاک چین پر مبنی ٹوکنز اور اسٹیبل کوائنز، مثلاً یو ایس ڈی ٹی پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔

فتویٰ جاری کرنے والے علماء کا مؤقف ہے کہ چونکہ یہ ڈیجیٹل اثاثے اسلامی قانون کے مطابق معتبر مال یا ملکیت کی شرائط پوری نہیں کرتے، اس لیے ان کی تجارت کو شرعی اعتبار سے جائز لین دین نہیں سمجھا جا سکتا۔