ایران تنازع: امریکی تیل ذخائر میں کمی خطرے کی گھنٹی بج گئی

امریکی ذخائر 1983 کے بعد کم ترین سطح پر،ایران کشیدگی سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

July 10, 2026 · بام دنیا

امریکہ کے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر (SPR) 1983 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس کے باعث ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف عالمی تیل کی منڈی بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ جنگی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ امریک اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ جب بھی امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

اسی تناظر میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 78.02 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 19 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے اور ایک روز میں 5.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

امریکی محکمہ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق 3 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر میں 62 لاکھ بیرل کمی ہوئی، جس کے بعد مجموعی ذخائر 31 کروڑ 95 لاکھ بیرل رہ گئے، جو 1983 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ ان ذخائر کی مجموعی گنجائش 71 کروڑ 35 لاکھ بیرل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا نے عالمی منڈی میں خام تیل کی شدید قلت اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے بچنے کے لیے ان ذخائر سے تیل جاری رکھا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اسٹریٹجک ذخائر کا مناسب سطح پر برقرار رہنا نہایت ضروری ہے تاکہ عالمی مالیاتی منڈیوں کو یہ یقین رہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر عالمی تیل کی سپلائی کو مستحکم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ذخائر موجودہ سطح سے مزید کم ہوئے تو اس سے نہ صرف عالمی توانائی کی منڈی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ صدر ٹرمپ کے لیے مستقبل میں ایران کے خلاف عسکری کارروائی کے اختیارات بھی محدود ہو سکتے ہیں۔