خلیج میں غیرروایتی جنگ امریکہ کے لیے بڑا چیلنج بن گئی۔تجزیہ کار
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں عالمی تجارت کو مفلوج کر سکتی ہیں، ڈین گریزیئر
سابق امریکی میرین کور افسر اور دفاعی تجزیہ کار ڈین گریزیئر نے کہا ہے کہ خلیج میں ایران کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی امریکا کے لیے ایک پیچیدہ عسکری چیلنج بن چکی ہے، جس کا واشنگٹن اب تک مؤثر حل تلاش نہیں کر سکا۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈین گریزیئر نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں صرف ایک یا دو بحری بارودی سرنگیں بھی نصب کر دے تو عالمی بحری گزرگاہ کو محفوظ بنانا انتہائی مشکل اور طویل آپریشن بن جائے گا۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز نہایت قیمتی کارگو لے کر سفر کرتے ہیں، اس لیے اس نوعیت کی معمولی کارروائی بھی عالمی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ڈین گریزیئر نے کہا کہ یہی غیر متوازن یا اسیمیٹرک وارفیئرکی بنیادی خصوصیت ہے، جہاں نسبتاً کمزور فریق محدود وسائل سے طاقتور ملک کے لیے بڑے مسائل پیدا کر دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنی سرحدوں سے باہر فوجی طاقت استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ معمولی تخریبی اقدامات کے ذریعے وہ امریکا اور اسرائیل کے لیے بڑے سکیورٹی اور عسکری مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی صورتحال واشنگٹن کی قیادت کے لیے ایک مشکل مخمصہ بن چکی ہے، کیونکہ امریکا اگر کشیدگی کم کرنا چاہے تو اسے کمزوری کے تاثر کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ عسکری کارروائی جاری رکھنے کی بھی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
ڈین گریزیئر نے امریکی قیادت پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کرے، کیونکہ ان کے بقول غیر روایتی جنگ کا یہ انداز ایسا عسکری مسئلہ ہے جسے امریکا آج تک مکمل طور پر سمجھنے یا اس کا مؤثر حل نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ حالات میں امریکا ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکا ہے، تاہم جنگ کے دوران بھی حکمت عملی میں تبدیلی ممکن ہوتی ہے، لیکن ایسے تنازعات سے حقیقی سبق عموماً جنگ ختم ہونے کے بعد ہی سیکھا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر مستقبل کے لیے بہتر عسکری حکمت عملیاں تیار کی جا سکتی ہیں۔