ایران نے انقرہ میں نیٹو اجلاس کو سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دے دیا
آبنائے ہرمز،جوہری پروگرام پر بحث کو جانبدارانہ قرار،خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار دوسروں کوٹھہرایا
ایران نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ نیٹو اجلاس کو سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس میں آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ترکیہ میں ایرانی سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی برقرار رکھنا ایران کی ذمہ داری ہے، جبکہ خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کی بنیادی وجہ دیگر ممالک کے اقدامات ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے بیانات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی مسلسل حمایت کر رہے ہیں۔
بقائی کے مطابق نیٹو کی یہ پالیسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اتحاد ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی مؤقف کی تائید کر رہا ہے، جس پر ایران کو سخت تحفظات ہیں۔