ایران پالیسی پر ٹرمپ شدید تنقید کی زد میں
امریکی رکن کانگریس نے حکمت عملی، سفارت کاری اور جنگی فیصلوں کو ناکام قرار دے دیا۔
فائل فوٹو
امریکی ڈیموکریٹک رکن کانگریس جمی پنیٹا نے ایران سے جاری فوجی کشیدگی کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ کی موجودہ پالیسی سفارتی کوششوں اور مؤثر حکمت عملی، دونوں کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنے بیان میں جمی پنیٹا نے کہا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ کے بیانات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، تاہم امریکا کے نئے فضائی حملوں اور ایران کی جانب سے ڈرون حملوں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ مذاکرات غیر نتیجہ خیز رہے ہیں اور جنگ بندی بھی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران اس بات کا تسلسل ہے کہ امریکہ نے واضح حکمت عملی، کانگریس کی منظوری اور امریکی عوام کی وسیع حمایت کے بغیر جنگ کا راستہ اختیار کیا۔
جمی پنیٹا نے مطالبہ کیا کہ کانگریس کو، چاہے اسپیکر کی حمایت حاصل ہو یا نہ ہو، ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کو کھولنے اور امریکی عوام کے لیے قیمتوں میں کمی لانے کی کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔
واضح رہے کہ جمی پنیٹا سابق امریکی وزیر دفاع اور سابق سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پنیٹا کے صاحبزادے ہیں، جنہوں نے سابق صدر باراک اوباما کے دورِ حکومت میں دونوں اہم عہدوں پر خدمات انجام دی تھیں۔