ایران کی حمایت میں روس کا بڑا قدم،خصوصی فوجی طیارہ تہران روانہ

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں فوجی کارروائیاں دوبارہ تیز ہو گئی ہیں۔

July 13, 2026 · اہم خبریں

امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے دوران روس کے کردار سے متعلق نئی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس نے اپنا خصوصی کمانڈ طیارہ “ٹی یو-214 پی یو” تہران روانہ کیا ہے، جسے روسی قیادت ہنگامی حالات میں فضائی کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ طیارہ ایسی صورتحال میں استعمال کیا جاتا ہے جب اعلیٰ روسی قیادت کو محفوظ ماحول میں رہتے ہوئے فوجی اور حکومتی امور کی نگرانی کرنا ہو۔ تاہم روسی حکومت کی جانب سے اس پر باضابطہ مؤقف یا مشن کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں فوجی کارروائیاں دوبارہ تیز ہو گئی ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم آبنائے ہرمز کے قریب پیش آنے والے حالیہ واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی طیارے کی تہران آمد مختلف مقاصد کے لیے ہو سکتی ہے، جن میں فوجی رابطہ کاری، سفارتی مشاورت، انٹیلی جنس تعاون یا ہنگامی منصوبہ بندی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم ان امکانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں امریکی فوج کے علی السالم ایئر بیس پر حملہ کر کے ایندھن کے ذخائر اور پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، جبکہ احمد الجابر ایئر بیس پر موجود ریڈار نظام پر بھی حملہ کیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں امریکا کے حالیہ حملوں کے جواب میں جاری آپریشن کے تیسرے مرحلے کا حصہ ہیں۔

 

اس سے قبل ایران بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ بھی کر چکا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی ان صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے جنہیں امریکا سمندری راستوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔

روس کے خصوصی کمانڈ طیارے کی تہران آمد اور امریکا و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ تاہم اس معاملے سے متعلق متعدد دعوؤں کی آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، جبکہ عالمی برادری مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔