ننکانہ صاحب: 4 سالہ بچی کا مبینہ قاتل پولیس حراست سے فرار کے دوران ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم کے 2 مسلح ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔
فائل فوٹو
ننکانہ صاحب: ننکانہ صاحب میں 4 سالہ معصوم بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد بیدردی سے قتل کرنے والا مرکزی ملزم پولیس حراست سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہو گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق، پولیس ٹیم ملزم کو واقعے کی تفتیش کے سلسلے میں جائے وقوعہ پر لے گئی تھی، جہاں اس نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے جائے وقوعہ کی نشاندہی کی۔ نشاندہی کے عمل کے بعد جب پولیس ٹیم ملزم کو واپس تھانے منتقل کر رہی تھی، تو ملزم نے پولیس کو چکمہ دے کر حراست سے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کر لی۔ ملزم کے فرار ہوتے ہی پولیس کی جانب سے علاقے میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے گرفتاری کے لیے فوری طور پر سخت ناکہ بندی کر دی گئی۔
ترجمان پولیس نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ڈفر کھوکھراں روڈ پر قائم ایک نکے پر پولیس ٹیم نے تین مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا۔ پولیس کو دیکھتے ہی موٹر سائیکل سواروں نے رکنے کے بجائے پولیس اہلکاروں پر سیدھی فائرنگ کر دی۔ پولیس نے بھی دفاع میں جوابی فائرنگ کی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ رکنے کے بعد جب موقع کا معائنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پولیس حراست سے فرار ہونے والا مذکورہ ملزم اپنے ہی مفرور ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر موقع پر ہی ہلاک ہو چکا تھا، جبکہ اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے دو دیگر مسلح ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس نے ہلاک ملزم کی لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے جبکہ فرار ہونے والے دیگر دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معصوم بچی کے قتل میں ملوث دیگر سہولت کاروں کو بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔