آزاد کشمیر کے عوام نے انتشاری کمیٹی کی معصوم بچوں کو گمراہ کرنے کی مذموم سازش کو مسترد کردیا
احتجاجی سرگرمیاں پرامن انداز میں جاری رکھی جائیں اور بچوں، خواتین یا دیگر غیر متعلقہ افراد کو کسی بھی قسم کے تصادم یا خطرناک صورتحال سے دور رکھا جائے۔
آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج کے تناظر میں بعض شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک احتجاجی تنظیم کی جانب سے طلبہ، بچوں اور خواتین کو احتجاجی سرگرمیوں میں شامل کیا جا رہا ہے، جس پر انہوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں اور طلبہ کو کسی بھی سیاسی یا احتجاجی سرگرمی کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے ان کی تعلیم، سلامتی اور مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔
کئی مقامی افراد نے مطالبہ کیا کہ احتجاجی سرگرمیاں پرامن انداز میں جاری رکھی جائیں اور بچوں، خواتین یا دیگر غیر متعلقہ افراد کو کسی بھی قسم کے تصادم یا خطرناک صورتحال سے دور رکھا جائے۔
بعض مبصرین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ اختلافِ رائے کے اظہار کا حق اپنی جگہ، تاہم بچوں اور طلبہ کو سیاسی تنازعات یا احتجاجی سرگرمیوں میں استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب اس معاملے پر متعلقہ احتجاجی تنظیم کا مؤقف فوری طور پر سامنے نہیں آ سکا، جبکہ ان الزامات کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔