مولانا فضل الرحمان کے بیان پر وفاقی وزراء یک زبان،شہداء کو خراجِ تحسین
اختلافِ رائے ہر کسی کا حق ہے، تاہم قومی سلامتی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے
مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر حکومتی وزرا اور مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، جہاں متعدد وفاقی وزرا نے شہداء اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بیان پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و سیاسی امور، سینیٹر رانا ثنا اللہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کے لیے جان قربان کرنے والوں کی عظیم قربانیوں کا احترام پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قربانیوں کو کسی بھی انداز میں کم تر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، تاہم شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کے جذبات کا احترام بھی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ملک کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجی جوانوں کی خدمات اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ایسے الفاظ سے گریز کیا جانا چاہیے جو شہداء کے اہلِ خانہ یا عوامی جذبات کو متاثر کریں۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ افواجِ پاکستان ملکی سلامتی اور استحکام کی علامت ہیں، جبکہ شہداء کی قربانیاں قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کا احترام سب پر لازم ہے۔
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بھی شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع کے لیے جانیں قربان کرنے والے قوم کے ہیرو ہیں اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وطن کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قربانیاں پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بھی قومی مفاد اور قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہداء اور دفاعی اداروں کی خدمات کا احترام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان یا جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے ان حالیہ بیانات پر فوری طور پر کوئی نیا ردعمل سامنے نہیں آیا۔