ٹک ٹاک لائیو سے Civic خریدنے کا دعویٰ،ہینا پرویز بٹ برہم
میرے بینک اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے موجود ہیں۔ سب سے مہنگی چیز میرا بینک کارڈ ہے۔
لاہور — سوشل میڈیا پر ایک نوجوان لڑکی کا اسٹریٹ انٹرویو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں وہ دعویٰ کرتی نظر آتی ہے کہ اس نے ٹک ٹاک لائیو سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے چند ماہ میں Honda Civic خریدی اور لاکھوں روپے کی بچت بھی کر لی۔
وائرل ویڈیو میں لڑکی کا کہنا ہے، “میں ٹک ٹاک لائیو کرتی ہوں، میرے 80 ہزار سبسکرائبرز ہیں۔ ابھی مکمل مشہور نہیں ہوئی، بس ہو رہی ہوں۔ 8 ہزار روپے کی پینٹ، 3 ہزار روپے کی شرٹ، 50 ہزار روپے کا پرس استعمال کرتی ہوں اور میرے بینک اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے موجود ہیں۔ سب سے مہنگی چیز میرا بینک کارڈ ہے۔”
اس وائرل کلپ پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی ہینا پرویز بٹ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر لکھا:
“ٹک ٹاک لائیو پر جتنی بے حیائی پھیلاؤ اتنے پیسے کماؤ۔ اللہ کی پناہ، یہ لوگ بچوں اور نوجوانوں کے ہیرو بن چکے ہیں۔ اب ہر کوئی راتوں رات امیر بننا چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا کے فوائد کے برابر نقصانات بھی ہیں، سب سے زہریلے فیملی وی لاگرز اور ٹک ٹاک لائیو والے ہیں جو ہمارے بچوں کو خراب کر رہے ہیں۔”
ٹک ٹاک لائیو پر جتنی بے حیائی پھیلاؤ اتنے پیسے کماؤ۔ ٹک ٹاک لائیو میں جتنا گند یہ لوگ مچاتے ہیں اللہ کی پناہ۔ بدقسمتی سے بچوں اور نوجوانوں کے یہ لوگ ہیرو ہیں، اب ہر کوئی راتو رات امیر ہونا چاہتا ہے، ہر کوئی شارٹ کٹ چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا کے جتنے فوائد اتنے نقصانات بھی ہیں، سب سے… https://t.co/Xverf0hHnk
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) July 19, 2026
ہینا پرویز بٹ کا یہ ردعمل اس وائرل اسٹریٹ انٹرویو کے بعد سامنے آیا، جسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر @K4mi_i نامی اکاؤنٹ نے شیئر کیا۔ ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، تاہم انٹرویو میں نظر آنے والی لڑکی کی شناخت آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے مالی دعوؤں کی کسی سرکاری یا آزاد ذریعے سے تصدیق ہو سکی ہے۔
ماہرین سماجیات کے مطابق سوشل میڈیا نے نوجوانوں کے لیے روزگار اور اظہارِ رائے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم غیر حقیقی کامیابیوں اور فوری دولت کے تاثر کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو تعلیم، پیشہ ورانہ مہارت اور محنت کی جانب راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پالیسیوں اور قوانین پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔