ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے پر 1133 وکلاء کے لائسنس معطل
15 جولائی 2026 تک مہلت بھی دی گئی، تاہم مقررہ مدت کے باوجود 1133 وکلاء مطلوبہ دستاویزات جمع نہیں کرا سکے۔
لاہور: پنجاب بار کونسل نے قانون کی ڈگریوں کی تصدیق نہ کرانے والے وکلاء کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 1133 وکلاء کے لائسنس معطل کر دیے ہیں۔
پنجاب بار کونسل کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مختلف جامعات سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے وکلاء کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کرانے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ اس مقصد کے لیے 15 جولائی 2026 تک مہلت بھی دی گئی، تاہم مقررہ مدت کے باوجود 1133 وکلاء مطلوبہ دستاویزات جمع نہیں کرا سکے۔
اعلامیے کے مطابق صرف 29 وکلاء نے مقررہ وقت کے اندر اپنی HEC سے تصدیق شدہ ڈگریاں جمع کرائیں، جبکہ 32 دیگر درخواستیں لائسنس کی بحالی کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی کو بھجوا دی گئی ہیں۔
پنجاب بار کونسل نے شاہ عبداللطیف بھٹائی یونیورسٹی خیرپور سے متعلق جاری جانچ پڑتال کے دوران مزید 62 وکلاء کے لائسنس بھی معطل کر دیے ہیں۔ اسی یونیورسٹی سے متعلق 128 افراد کو آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 25 جولائی 2026 کو اپنی اصل تعلیمی اسناد، متعلقہ ریکارڈ اور HEC سے تصدیق شدہ ڈگری کے ساتھ پیش ہوں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ تک مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کی گئیں تو متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی، بشمول مقدمات کے اندراج، عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل فخر حیات اعوان کی منظوری سے کی جانے والی اس کارروائی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جعلی یا بوگس تصدیقی سرٹیفکیٹ یا دیگر جعلی دستاویزات پیش کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
فخر حیات اعوان کا کہنا تھا کہ جن وکلاء نے ابھی تک HEC سے تصدیق شدہ ڈگری جمع نہیں کرائی، وہ تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی سے رجوع کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد وکالت کے شعبے میں شفافیت، پیشہ ورانہ معیار اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا ہے، جبکہ ڈگریوں کی جانچ کا عمل آئندہ بھی قانون کے مطابق جاری رہے گا۔