جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش۔3 مسافر ملتان ایئرپورٹ پر آف لوڈ
عمرہ سے متعلق کاغذات اور مسافروں کے موبائل فونز قبضے میں لے لیے۔
ایف آئی اے امیگریشن نے ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کے جعلی ریزیڈنٹ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک سفر کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے تین مسافروں کو آف لوڈ کر دیا ، ایک امیگریشن اہلکار بھی گرفتار کرلیا گیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق محمد آکاش، شہزیب اور محمد شعیب فلائی دبئی کی پرواز کے ذریعے متحدہ عرب امارات جا رہے تھے۔ امیگریشن کلیئرنس کے دوران ان کے زیرِ استعمال یو اے ای کے ریزیڈنٹ کارڈز مشتبہ پائے گئے جن کی جانچ پڑتال پر ان کے جعلی ہونے کا انکشاف ہوا۔
ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ جعلی ریزیڈنٹ کارڈز حاصل پور کے ایجنٹوں نے تیار کروا کر واٹس ایپ کے ذریعے مسافروں کو بھجوائے تھے۔ مسافروں نے بھاری رقوم ادا کرکے یہ جعلی دستاویزات حاصل کیں اور انہی کی بنیاد پر امیگریشن کلیئرنس لینے کی کوشش کی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایف آئی اے نے جعلی سفری دستاویزات، چھپائے گئے عمرہ سے متعلق کاغذات اور مسافروں کے موبائل فونز قبضے میں لے لیے۔ تحقیقات کے مطابق جعلی یو اے ای ریزیڈنٹ کارڈز کی مدد سے امیگریشن کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد متحدہ عرب امارات پہنچ کر عمرے کی دستاویزات پیش کرکے وہاں سے سعودی عرب یا دیگر ممالک کی جانب غیر قانونی سفرکیا جانا تھا۔
ابتدائی تحقیقات میں ایک امیگریشن اہلکار کے مبینہ کردار کے شواہد بھی سامنے آئے جس نے جعلی یو اے ای ریزیڈنٹ کارڈز کی پراسیسنگ میں سہولت فراہم کی، امیگریشن سسٹم میں غلط اندراجات کیے اور مسافروں کو غیر قانونی طور پر کلیئرنس دلانے میں معاونت کی۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ اسی نیٹ ورک کی مدد سے مسافروں کے لیے مبینہ طور پر جعلی بنیاد پر “اوکے ٹو بورڈ منظوری بھی حاصل کی گئی۔ایف آئی اے نے تینوں مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے بعد جعلی دستاویزات، عمرے سے متعلق ریکارڈ اور ڈیجیٹل شواہد تحویل میں لے لیے۔
مسافروں اور متعلقہ امیگریشن اہلکار کو قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل ملتان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق اس منظم دستاویزاتی فراڈ اور غیر قانونی انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک میں ملوث ایجنٹوں اور دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں جبکہ کیس کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔