گیس سیکٹر کے گردشی قرضے پر آئی ایم ایف کی نئی تجاویز

سرکاری گیس کمپنیوں کے مالی نقصانات کو باضابطہ طور پر ان کے مالیاتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے

July 21, 2026 · قومی

گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے مسئلے کے حل کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، جن پر حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ سرکاری گیس کمپنیوں کے مالی نقصانات کو باضابطہ طور پر ان کے مالیاتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، جبکہ وہ واجبات بھی نقصان تصور کیے جائیں جن کی وصولی ممکن نہیں رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل کے بعد گیس کمپنیوں کی مالی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے انہیں دوبارہ سرمایہ فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تاہم متعلقہ حکام کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے کمپنیوں کے شیئرز کی مالیت متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، جس کے باعث مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 3 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ابتدائی منصوبے کے تحت تقریباً ایک ہزار 700 ارب روپے کے قرضے کی مرحلہ وار ادائیگی یا سیٹلمنٹ پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ ورچوئل مذاکرات میں اس معاملے پر حتمی اتفاق رائے نہیں ہو سکا، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ستمبر میں دوبارہ مذاکرات کیے جائیں گے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ تیار ہونے والا سیٹلمنٹ پلان آئی ایم ایف کی تجاویز اور حکومتی مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا جائے گا۔