چنیوٹ میں دریائے چناب کا کٹاؤ تیز،کئی علاقے دریا برد ہوگئے

گاؤں میں موجود آخری مسجد بھی تیز بہاؤ کے باعث متاثر ہو کر دریا برد ہوگئی۔

July 21, 2026 · قومی

چنیوٹ: دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے بعد دریائی کٹاؤ نے تباہی مچانا شروع کر دی ہے، جس کے باعث کئی علاقے متاثر ہو رہے ہیں اور متعدد مقامات پر زمین دریا برد ہونے لگی ہے۔

شدید کٹاؤ کے باعث چنیوٹ کا گاؤں میاں وال تقریباً مکمل طور پر ختم ہوگیا، جہاں دریا کے بڑھتے ہوئے پانی نے آبادی کے باقی ماندہ حصے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق گاؤں میں موجود آخری مسجد بھی تیز بہاؤ کے باعث متاثر ہو کر دریا برد ہوگئی۔

گزشتہ سال آنے والے سیلابی ریلے کے دوران میاں وال کا بڑا حصہ دریا میں بہہ گیا تھا، جبکہ حالیہ صورتحال کے باعث باقی ماندہ علاقہ بھی ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے۔

دریائی کٹاؤ کا سلسلہ اب قریبی علاقوں ساہمل، ڈوم سیداں اور وڈ سیداں تک پھیل گیا ہے، جہاں مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ کئی خاندان اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔

مقامی افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر دریائی کٹاؤ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید بستیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔